خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 824 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 824

خطبات طاہر جلد ۵ صلى الله 824 خطبه جمعه ۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء آنحضرت ﷺ نے جو آخری لشکر تیار کروایا خود جس کا سردار اسامہ بن زید کو مقر رفرمایا۔ اگر کسی لشکر کشی کا مقصد یہ تھا کہ خاتمیت نبوت کے منکرین یا نبوت کے جھوٹے دعویداران کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان کا قتل کیا جائے تو یہ ہدایت تو اسامہ بن زید کو ملنی چاہئے تھی ۔ یہ مولوی اتنے جھوٹے اوران جائے وہ توا ہیں کہ جانتے ہیں کہ اشارہ یا کنایہ بھی اسامہ بن زید کو یہ ہدایت نہیں ملی بلکہ فوج کے کسی سپاہی کو نہیں ملی بن زید کو یہ بلکہ اور وہ لشکر کشی اندرونی عرب کے لئے تھی نہیں ۔ وہ ایک ایسی مہم کے ساتھ تعلق رکھنے والی لشکر کشی تھی جس کا آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد بجھوانا عالم اسلام کے لئے خطرناک ہو سکتا تھا مگر آخری وقت تک صلى الله ا آنحضرت ﷺ نے اس لشکر کو اپنے اس مقصد سے نہیں ہٹایا جس کے لئے وہ قائم کیا گیا تھا۔ جس کا عروسه ۔ کوئی دور کا تعلق کسی جھوٹے مدعیان نبوت سے نہیں تھا یا ارتداد سے اس کا کوئی بھی دور کا تعلق نہیں تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ میں جو لشکر کشی کی گئی وہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد صلى الله علوم رونما ہونے والے واقعات کے نتیجہ میں تھی اس لئے اتنا بڑا جھوٹ ، اتنا بڑا افترا آنحضرت ﷺ پر کہ آنکھیں بند کرنے سے پہلے آپ نے حضرت ابو بکر صدیق کو جو ہدایتیں دی تھیں ان کے نتیجہ میں حضرت ابو بکر صدیق نے وہ جہاد شروع کیا جو مرتدین کے خلاف تھا ، مرتدین نہیں منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد۔ اجرائے نبوت کا عقیدہ رکھنے والوں کے خلاف جہاد تھا حضرت ابو بکر کا ان کے نزدیک اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بات کا نہ حضرت علیؓ کو پتہ چلا ، نہ حضرت عمر کو پتہ چلا اور نہ خود حضرت ابو بکر صدیق کو پتہ چلا کہ میں کس لئے جہاد کر رہا ہوں کیونکہ تمام تاریخیں مسلمہ طور پر گواہ ہیں اور اس بات میں ایک بھی اختلاف نہیں کہ جب بعض کبار صحابہ نے مختلف وجوہات سے حضرت ابو بکر صدیق کو منکرین زکوۃ کے خلاف تلوار اٹھانے سے منع کیا منکرین ختم نبوت کا اشارہ کہیں ذکر نہیں ملتا ہے۔ قائلین اجرائے نبوت کا کوئی خیال ، وہمہ بھی ساری گفتگو میں موجود نہیں تھا جب بعض کبار صحابہ نے جن میں ایسے بھی تھے جو بعد میں خلفاء بنے انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق کو مشورہ دیا کہ ایسانہ کریں۔ اس کی وجوہات یہ تھیں کہ اسلام میں جبر نہیں ہے۔ یہ کہا حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے بھی کہ اسلام میں چونکہ جبر نہیں ہے اگر وہ منکر ہو رہے ہیں تو آپ جبراً کیوں اسلام میں ان کو داخل کرتے ہیں ۔ اس کا جواب حضرت ابو بکر صدیق نے یہ نہیں دیا کہ چونکہ وہ ختم نبوت کے منکر ہیں اور چونکہ آنحضرت ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد فورا یہ کام ہوگا تم یہ جہا د شروع کر دینا ہے اس صلى الله عروسه ۔