خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 810
خطبات طاہر جلد ۵ 810 خطبه جمعه ۱۵ دسمبر ۱۹۸۶ء تعزیری کارروائی اس کے خلاف کرے کہ چونکہ تم ہماری سوسائٹی کے خیال تبدیل کر رہے ہو اس لئے ہم حق رکھتے ہیں کہ تمہارے گھر لوٹیں ، تمہارے گھر جلائیں ، تمہارے اموال لوٹیں تمہیں ذبح کریں، تمہیں ہر قسم کی اذیتیں پہنچائیں ، قانونی روکیں ڈالیں ، قید میں تمہیں دھکیلیں کیونکہ تمہیں کوئی حق نہیں کہ سوسائٹی کے خیال تبدیل کرو۔ تو پہلا پہلا حصہ مضمون کا کا ا ایسے خیالات سے تعلق رکھتا کھتا ہے جو طبعاً ہر انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں یا وہ لے کر پیدا ہوا ہے ان کو ، اپنے ماں باپ سے ورثے میں پائے ہیں ، اس میں تبدیلی کا کوئی تعلق نہیں ۔ کسی قسم کے کوئی خیالات ہوں سچ ہوں ، جھوٹ ہوں ، نورانی ہوں یا ظلماتی ہوں اس سے بحث ہی کوئی نہیں ہے۔ اعلان آپ کا یہ تھا اور یہ قرآن کریم نے بار بار بڑی تحدی سے اعلان فرمایا کہ ہر انسان آزاد ہے اپنی سوچوں میں ، اس کی سوچوں پر کوئی پہرے نہیں لگائے جا سکتے ۔ دوسرا اعلان یہ کہ اپنی سوچوں کو بیان کرنے میں آزاد ہے۔ تیسرا اعلان یہ کہ اس بیان کو سن کر اگر کوئی اپنی سوچیں تبدیل کرے تو اس پر کسی کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں ۔ چوتھا یہ کہ اس بات کو جرم نہیں سمجھا جائے گا کہ کوئی اپنے خیالات کو بیان کر کے کسی دوسرے کے خیالات کو تبدیل کر رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ یہ عظیم الشان آزادی ضمیر کا جہاد ہے جو آج بھی تمام انسان کو متوجہ کر رہا ہے اپنی طرف ۔ آج جتنی جد و جہد ہے انسانی زندگی میں ، اس میں جتنی خرابیاں نظر آ رہی ہیں ان خرابیوں کا آپ تجزیہ کریں تو ہر جگہ آپ کو ان بنیادی ہدایات سے روکتی نظر آئے گی تب وہ خرابی پیدا ہوئی ۔ کوئی شخص ان حقوق میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کرتا ہے، کوئی حکومت دخل اندازی کرنے کی کوششیں کرتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں فساد پیدا ہوتا ہے، دکھ پیدا ہوتا ہے ۔ ظلم پیدا ہوتا ہے، نظریاتی جدوجہد ، خون خرابے کی جدو جہد میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر جھوٹے اور مصنوعی اعلان کرنے والے یہ اعلان کرتے ہیں کہ نہیں ! نہیں نہیں ! ہم تو آزادی ضمیر کی خاطر لڑائی کر رہے ہیں اور دوسرے مقابل پر یہی اعلان کرتے ہیں کہ نہیں نہیں ! ہم تو آزادی ضمیر کی خاطر جہاد کر رہے ہیں، تم زبر دستی بدلا رہے ہو۔ وہی پہلے فریق پر الزام لگاتا ہے وہی الزام پہلا فریق دوسرے پر لگا دیتا ہے۔ تو بنیادی طور پر جہاں بھی نظریات میں کسی قسم کے جبر کی اجازت دی جائے اور نظریات تبدیل ہونے کا جو منظر ہے یہ برداشت