خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 798

خطبات طاہر جلد ۵ 798 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء کسی عارضی اور تمدن میں گہری جمی ہوئی نہ ہوں وہ نقش بر آب کی طرح ہوتا ہے ۔ کسی : طاقت سے ایسا انقلاب واقعہ ہو بھی جائے تو قائم نہیں رہ سکتا اور جب مٹتا ہے تو اس طرح مٹتا ہے کہ اپنا کوئی اثر چھوڑ کر نہیں جاتا۔ ( تجدید و احیائے دین مولفہ مودودی طبع چہارم (75) اس سارے بیان سے مجھے اتفاق ہے صرف آخری حصے کے سوا یعنی اپنا کوئی اثر چھوڑ کر نہیں جاتا۔ کیوں اثر چھوڑ کر نہیں جاتا؟ کل جو آپ تجزیہ کر رہے تھے تو اس میں تو یہ کہا کہ اثر یہ چھوڑا کہ پاکیزہ عمارت کو بھی ساتھ لے گرے۔ صرف خود نہیں مٹتا ایسا انقلاب بلکہ اعلیٰ قدروں کو بھی ساتھ مٹا دیتا ہے۔ کیوں کچھ چھوڑ کر نہیں جاتا پیچھے ، ایک نحوست کا ایسا لمبا سا یہ چھوڑ جاتا ہے جو بعض دفعہ صدیوں تک قوموں کی بربادی کا موجب بنا رہتا ہے۔ ایٹمی سائنس سے آج دنیا خوف کھا رہی ہے مگر وہ سایہ تو چند سال یا ۲۰ ہوں یا ۳۰ ہوں یا ۴۰ یا ۵۰ سال ہوں آخر اس سالے کی نحوست ان چند سالوں میں مٹ جائے گی پر قوموں کی تاریخ پر آپ جب نظر ڈالتے ہیں تو آپ یہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس قسم کے مذہب میں جبر کے قائل لوگوں نے جب اپنی نحوست کے سایے کسی قوم پر ڈالے تو عظیم الشان حکومتوں کے ٹکڑے ہو گئے اور یہ نحوست کے سایے صدیوں صدیوں تک جاری رہے اور آج بھی ان سایوں کا اثر ہم عالم اسلام پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ شاندار سلطنتیں جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی تھیں، جو محمد مصطفی ﷺ کی سچائی کی طاقت سے قائم ہوئی تھیں وہ اسی قسم کے لوگوں نے مٹائیں اور برباد کر دیں اور آج ان کے کھنڈرات ہمیں دکھائی دیتے ہیں ۔ پس کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اس طرح مٹ جائیں گے کہ کوئی اثر باقی نہیں رہے گا۔ مٹیں گے تو ضرور کیونکہ سچائی سے ٹکرانے والے ہمیشہ مٹا کرتے ہیں مگر نحوست کے سایے ضرور لمبے ہوں گے۔اس لئے جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ اس ناپاک انقلاب کی راہ میں روک بن جائے جو پاکیزہ نام لے کر ، پاکیزگی کا نام لے کر جاری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہر کوشش کو آپ نے ناکام بنایا ہے اور ناکام بنانا ہے آئندہ بھی۔ جس طرح آپ کے دلوں سے اسلام نوچ نہیں سکے، آپ کے اعمال سے اسلام نوچ نہیں سکے ، آپ کی زبان سے اسلام نوچ نہیں سکے، آپ کے