خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 774 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 774

خطبات طاہر جلد ۵ 774 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء ہوئیں ۔ اسلئے کہ انہوں نے امر بالمعروف چھوڑ دیا تھا اور نہی عن المنکر ترک کر دی تھی ۔ پس یہاں لَوْ آمَن میں اشارہ اس طرف کر دیا گیا کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے تُؤْمِنُونَ بِاللهِ کہ کر یہ مضمون کھول دیا تھا کہ یہ خوبیاں ایمان باللہ پانے والوں میں حقیقی طور پر پائی جاتی ہیں ۔ اللہ پر ایمان نہ رکھنے والوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ اس لئے کاش اہل کتاب بھی ایمان لے آتے اگر وہ ایمان لاتے تو ان میں یہ تینوں خوبیاں پائی جانی ضروری تھیں اور ساتھ ہی فرمادیا مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفُسِقُونَ ہاں کلیہ وہ ایمان سے خالی نہیں ہیں ان میں کچھ مومن بھی ہیں ۔ اس سے مزید یہ مضمون واضح ہو گیا کہ یہاں آنحضرت ﷺ پر ایمان کا ذکر نہیں ہے کیونکہ آپ پر ایمان لانے والوں کو اہل کتاب نہیں کہا گیا جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا تو پر اہل کتاب سے مراد واضح طور یہودی اور عیسائی تھے آنحضرت علی کے ماننے والوں کو صرف ايها المومنوں کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے ب کیا گیا ہے یا يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے اور واضح فرق کیا گیا ہے ان اصطلاحوں میں ۔ قرآن کے نزول کے وقت اہل کتاب گزشتہ کتابوں پر ایمان لانے والے تھے اور قرآن کریم پر ایمان لانے والے اگر چہ عموعی تعریف کے اندر داخل ہیں وہ بھی اہل کتاب ہیں لیکن ایسے اہل کتاب جن کا ایمان تازہ ہو چکا ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں ان کو مومن کے نام سے مخاطب کیا گیا ہے ۔ تو فرمایا مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفُسِقُوْنَ اگر یہ مراد ہوتی کہ ان میں سے بعض لوگ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تو ان کو منھم نہیں کہنا چاہئے تھا وہ تو پھر آنحضرت ﷺ کے گروہ میں شامل ہو گئے ۔ تو مراد یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسے عروسه لوگ موجود ہیں جب لَوْا مَنَ أَهْلُ الْكِتٰبِ کہہ کر نفی فرمائی گئی تو اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ یک قلم خدا تعالیٰ نے ان کو رد کر دیا ہے ان میں کوئی بھی اللہ پر ایمان لانے والا نہیں ۔ فرمایا بالعموم ان میں اللہ پر ایمان اٹھ گیا ہے نتیجہ یہ نکلا ہے وَأَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ وہ لوگوں کو بھلائی کی طرف کیسے بلائیں لوگوں کو برائیوں سے کیسے روکیں وہ خود تو فاسق ہو چکے ہیں۔ صلى الله الله پس ایمان کا عمل صالح کے سے ایک گہرا رشتہ ہے جو ان آیات میں خوب کھول کر بیان فرمایا گیا اور اس رشتہ کے ثبوت کے طور پر جو تین بنیادی باتیں بیان فرمائی گئیں وہ ہر اللہ پر ایمان لانے والے میں ضرور پائی جانی چاہئیں ۔ اگر کسی میں نہیں پائی جاتی تو قرآن کریم فرماتا کہ