خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 748
خطبات طاہر جلد ۵ 748 خطبه جمعه ۴ ۱ نومبر ۱۹۸۶ء تک کہ انبیاء کا انکار بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر حسد کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ حسد کیا چیز ہے؟ اس سے عم اس سے عموماً تمام وہ لوگ جوار دو سے وان سے واقف ہیں وہ اس کا مضمون جانتے ہیں کہ کسی کو اچھا دیکھنے پر اس کی تکلیف محسوس کرنا اور ہر زبان میں اس سے ملتا جلتا مفہوم پایا ہی جاتا ہے اور دنیا کے ہر کونے میں ، ہر مذہب وملت میں ، ہر رنگ میں، ہر جغرافیائی حدود میں رہنے والوں میں حاسد ملتے ہیں اور وہ بھی ملتے ہیں جن سے حسد کیا جاتا ہے۔ جب تک دنیا کی سوسائٹی میں کسی قسم کا زیر و بم ہے اور سچ اور سچ ہے حسد کو کلیہ مٹایا جا نہیں سکتا ۔ اشتراکی دنیا میں بھی باوجود اس کے کہ اقتصادی لحاظ سے یہ دعوی ہے کہ ہم نے تمام سوسائٹی کو برابر کر دیا ۔ قطع نظر اس سے کہ سوسائٹی حقیقت اقتصادی لحاظ سے برابر ہوئی ہے یا نہیں ہوئی اگر سو فیصد برابر بھی ہو چکی ہو تب بھی حسد کا قلع قمع اس سوسائٹی سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے حسد محض اقتصادی برتری کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ حسد ہر برتری کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ حکومت کی برتری کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوتا ہے اور دین میں برتری کی نتیجہ میں بھی ہوتا ہے۔ صرف ان چیزوں پر انہیں ہوتا ہے جن کا دینا بندے کے اختیار میں ہے بلکہ ان چیزوں پر بھی ہوتا ہے جن کا دینا محض خدا کے اختیا ہے۔ نبوت سے بھی حسد پیدا ہوتا ہے۔ خلافت سے بھی حسد پیدا ہوتا ہے، امارت سے بھی حسد پیدا ہوتا ہے دین کے ہر شعبہ میں حسد کار فرمائی کرتا ہوا دکھائی دے گا یا اپنا زہر گھولتا ہوا دکھائی دے گا۔ اگر کوئی انسان یہ محسوس کرے کہ فلاں شخص دین کے کسی مقام میں مجھ سے بہتر نظر آرہا ہے۔ تو انسانی زندگی کا کوئی ایک بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں آپ کو حسد کا وجود دکھائی نہ دیتا ہو، جہاں آپ کہہ سکتے ہوں کہ یہاں حسد کا کوئی کام نہیں ہے اور باوجود اس کے کہ اس کثرت کے ساتھ ملنے والا جذبہ ہے، جتنا یہ جذ بہ خفی رہتا ہے اور چھپ کر حملہ کرتا ہے اتنا شاید ہی دنیا میں کوئی اور جذ بہ چھپ کے حملے کرتا ہو۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی بدی جس نے نہ خشکی کو چھوڑا نہ تری کو چھوڑا نہ دنیا کو چھوڑا نہ دین کو چھوڑا اور سب سے زیادہ مخفی رہنے والی بدی ہے۔ اسی کے نتیجہ میں وہ خناس پیدا ہوتا ہے جس کا قرآن کریم کی آخری سورۃ میں ذکر ہے اور اسی لئے سورۂ الناس سے پہلے سورہ الفلق کی آخری آیت وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (فلق :۶) کے کے مضمو مضمون سے متنبہ کر رہی ہے اور یہ دعا سکھاتی ہے کہ اے اللہ تعالیٰ اسے ہمارے خدا