خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 732
خطبات طاہر جلد ۵ 732 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء لگتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ تشویشناک صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ دو جرمن احمد یوں نے ذکر کیا کہ پاکستان سے آنے والے بعض احمد یوں کا رویہ افسوسناک ہے اس کے نتیجہ میں جرمن احمدیوں کے لئے ٹھوکر کا سامان پیدا ہوتا ہے۔ ان امور پر غور کرتے ہوئے کئی امور ایسے ہیں جو میرے سامنے آئے جن کا تعلق عالمی نظام جماعت احمد یہ سے ہے اور اس تجربہ سے استفادہ کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا کی جماعتوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہئے ۔ جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مقامی جماعتیں عطا ہورہی ہیں یعنی ایسی جماعتیں جن میں مقامی دوست اس ملک کے باشندے زیادہ نمایاں تعداد میں نظر آنے لگے ہیں اور نمایاں دلچسپی لینے لگے ہیں ایسی جگہوں میں ہمیں تربیت کی طرف دو طرح سے متوجہ ہونا پڑے گا۔ اول یہ کہ مجالس عاملہ کو FOLLOW UP GROUP یعنی مبلغین کے پیچھے پیچھے چلنے والا تر بیت کا ایک گروپ تیار کرنا چاہئے اور وہ اس بات کے ماہر ہوں اور خصوصیت کے ساتھ ان کے سپرد یہ کام کیا جائے کہ آپ یہ سوچتے رہیں کہ نئے آنے والوں کی تربیت میں کس کس چیز کی ضرورت ہے اور ہر ملک کی ضرورت الگ الگ ہوگی ۔ اس لئے مرکز سے تحریک جدید بھی کوئی معین ہدایت نہیں دے سکتی اور نہ میں معین طور پر ہر ملک کی ضروریات کی تعیین یہاں بیٹھے کر سکتا ہوں۔ دورے کے دوران جو چیزیں سامنے آتی ہیں ان کے متعلق تو ہدایات دی جاتی ہیں مگر یہ تو ممکن نہیں ہے کہ انسان لٹو کی طرح ہر وقت تمام دنیا کی جماعتوں میں گھومتا ر ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے سوسے زائد ممالک میں جماعتیں قائم ہو چکی ہیں اور جماعتوں کی کل تعداد آپ شمار کریں تو عملاً دس سال میں بھی ایک ایک دن کا دورہ پورا نہیں ہو سکتا بلکہ اس سے زیادہ وقت چاہئے ۔ اس لئے ان معاملات میں مقامی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری کو خود ادا کرنا چاہئے اور بالغ نظری کے ساتھ ان معاملات کو سلجھانا چاہئے کیونکہ اگر ابھی ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو آئندہ زیادہ دقتیں پیش آجائیں گی۔ سب سے زیادہ اہم بات جس کو تمام دنیا کی مجالس عاملہ کو ملحوظ رکھنا چاہئے وہ توحید ہے توحید خالص کسی آسمان پر بسنے والی چیز کا نام نہیں ہے۔ خدا جو اسلام پیش کرتا ہے وہ آسمانوں کا بھی خدا ہے اور زمینوں کا بھی خدا ہے۔ اس سے کائنات کا کوئی حصہ بھی خالی نہیں۔ وہ نور السموات والارض ہے ۔ اس لئے اس کی توحید کے دائرہ سے کوئی چیز بھی باہر نہیں اور اس کی توحید کے اثر اور نفوذ سے کوئی چیز بھی