خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 704
خطبات طاہر جلد ۵ 704 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء جو خاندان سے باہر کے ہوتے ہیں ان میں کس حد تک امن کی کیفیت ہے؟ اس پہلو سے اگر آپ امریکہ کے امن کا جائزہ لیں یا افریقہ کے امن کا جائزہ لیں یا یورپ کے امن کا جائزہ لیں یا ایشیا کے امن کا جائزہ لیں تو بلا استثناء ہر سوسائٹی میں نہ صرف یہ کہ بدامنی ہے بلکہ بدامنی بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ اگر بین الاقوامی تعلقات کے اوپر جائیں تو دن بدن انسان ایک دوسرے سے زیادہ خوف کھانے لگا ہے ، دن بدن انسان ایک دوسر۔ ، دوسرے سے بداعتماد ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کسی وعدے کا نہ کوئی پاس رہا ہے نہ کسی وعدے پر یقین رہا ہے اور جتنی بڑی بڑی طاقتیں ہیں ، اونچی سطحوں پر ملتی ہیں اور کوششیں کرتی ہیں کہ ہم کسی طرح سمجھوتوں کے ذریعہ امن حاصل کر لیں ۔ وہ بڑی طاقتیں جانتی ہیں کہ ہم بھی جھوٹے ہیں اور مد مقابل بھی جھوٹا ہے ۔ جب بھی جس کو بھی طاقت نصیب ہوئی ، جب بھی جس کو بھی موقع ملا وہ دوسرے انسانوں کو ، دوسرے گروہ کے انسانوں کو کلیہ ہلاک کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ اس بدامنی کے نتیجہ میں نئی نئی تحریکات نے جنم لیا ہے کہیں Pacific تحریک چل رہی ہے کہیں گرین موومنٹ ہے کہیں کسی ایک اور نام سے یہ تحریک کسی ملک میں سر اٹھا رہی ہے اور ہر تحریک امن کا مطالبہ تو کرتی ہے لیکن امن کیسے نصیب ہوگا اس کے لئے کوئی حل نہیں کرتی ۔ جو حل پیش کئے جاتے ہیں وہ ایسے یک طرفہ اور بے معنی ہیں کہ جب تک مقابل کی طاقتیں ان حلوں کو تسلیم نہ کر لیں اور ان پر عمل نہ کرنا شروع کر دیں اس وقت تک وہ حل بے معنی اور لغوحل ہیں ان کی کوئی بھی حیثیت نہیں چنانچہ ایک دفعہ جب جرمنی میں Peace March شروع کی گئی بڑی وسیع ، تو ایک تبصرہ نگار نے یہ لکھا ، پیں مارچ کا مطالبہ یہ تھا کہ سارے ایٹمی ہتھیار جو مغربی دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ کلیہ غرق کر دیئے جائیں اور ختم کر دیئے جائیں ۔ صرف یہی ایک حل ہے ایٹم کی ہلاکت سے بچنے کا۔ تبصرہ نگار نے یہ لکھا کہ حل تو ہوگا یہ لیکن یہ پیس مارچ جس دن مشرقی جرمنی کا Barrier کر اس کر کے آگے تک پہنچے اور روس تک بھی یہ آواز پہنچا دے اس دن ہم تسلیم کر لیں گے کہ واقعی یہ حل ہے۔ لیکن اگر یہ برلن کی دیواروں سے سر ٹکر اٹکرا کے مر جائے اور پر لی طرف یہ آواز سنائی نہ دے تو پھر ہم کیسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ دنیا کے امن کا یہ واحد حل ہے اور اس میں حقیقت ہے ۔ حل جس طرف سے بھی اٹھائے جاتے ہیں وہ یک طرفہ حل ہوتے ہیں۔ روس جو حل پیش کرتا ہے وہ بھی یک طرفہ حل ہے اور وہ اس Barrier سے جسے ہم Iron Curtain Barriers کہتے ہیں یا آزاد دنیا کے۔ Barrier کہتے ہیں وہ