خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 65
خطبات طاہر جلد ۵ 65 خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار میں موجود تھا۔“ یہ وہ بات ہے جو جماعت احمد یہ کو ملحوظ رکھنی چاہئے بعض دفعہ جماعت کے احباب ہر بات کو Rationalize کرنے کی خاطر یعنی ایک منطقی رنگ دینے کی خاطر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہر بات میں کچھ نہ کچھ ایسی وجہ پوشیدہ ہے جسے عام انسانی عقل اور فہم سمجھ سکتی ہے ۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی گواہی کے بعد پھر کسی قسم کی توجیہات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ احادیث نبویہ میں یہ ساری باتیں ہم پڑھتے تھے اور پڑھتے ہیں لیکن بعض لوگ ان باتوں کی تو جیہات شروع کر دیتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس رنگ میں ان کو ظاہر فرمایا ہے ان کو اللہ تعالیٰ کے اس اقتدار کے طور پر ظاہر فرمایا ہے جو اپنے پیاروں کے اندر جلوہ نمائی دکھاتا ہے اور ان کے ذریعے پھر اقتداری نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لئے اس واقعہ میں عقل کو کوئی سمجھ آئے یا نہ آئے بلا شبہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت ا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علی کو ایسے اقتداری نشانات دیئے گئے ۔ پھر فرماتے ہیں :۔ صلى الله اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کر دیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا۔ اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا۔ اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا۔اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جاپڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ ایسا ہی اور بہت سے کام اپنی ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الہی مخلوط تھی ۔“ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۶:۶۵) سنن ابن ماجہ میں ایک روایت درج ہے کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر ایک عورت اپنے بچے کے ہمراہ حضوراکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یہ بولتا نہیں ۔ آپ نے پانی الله