خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 688
خطبات طاہر جلد ۵ 688 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء نسل کا کام نہ ہو ، اس سے اگلی نسل بھی انہی راہوں پر ماری جائے ، انہی راہوں پر فدا ہو تب جا کر خدا کی طرف سے آخری فتح کا دن نصیب ہو۔ لیکن یہ فتح جو ہو رہی ہے اس کی قدر کریں یہی قدر کے لائق فتح ہے اس کی غلامی میں جو فتح نصیب ہو گی وہ ہمیں قبول ہے کیونکہ وہی خدا کو قبول ہوا کرتی ہے۔ اس فتح سے چنگل چھڑا کر ، اس سے آزاد ہو کر اگر عددی فتح ملتی ہے تو اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں ۔ اس لئے باہر کی جماعتیں بھی اس مضمون پر غور کریں خصوصاً مغرب میں بسنے والی ۔ جیسا کہ میں نے متوجہ کیا ہے شدت کے ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی اگلی نسلوں کو سنبھالیں اور جو گندے حملے باہر سے ہوتے ہیں اور آپ کو برے لگتے ہیں وہی میدان آپ کے جیتنے کے میدان ہیں ۔ وہاں آپ حسن خلق سے یا برائی کو حسن سے بدل کر اپنے اندر بھی پاکیزہ تبدیلی پیدا کریں، اپنی اولاد میں خصوصیت کے ساتھ تبدیلی پیدا کریں اور اس ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا کی اور خصوصاً اس دنیا کی جماعتیں جو مغربی دنیا کہلاتی ہے یا وہ علاقے بھی جو مشرق کے ہیں اور دور دراز کے ہیں اور مرکز کی آنکھ سے ذرا پرے رہتے ہیں ان سب کی جماعتیں بھی خصوصیت کے ساتھ مجالس عاملہ کے اجلاس بلائیں اور مختلف پہلوؤں سے غور کریں کہ کس طرح اپنے گھروں کے ماحول کو پاکیزہ بنانا ہے۔ ہر گھر سے تلاوت کی آواز اٹھنی چاہئے ۔ بچوں کو ہوش آئے اس طرح آنکھیں کھولیں کہ گھروں میں سے تلاوت کی آواز آرہی ہو، لوگ نمازوں کا اہتمام کر رہے ہوں ۔وضو بتانا نہ پڑے بلکہ وہ دیکھ کر سیکھ لیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جن گھروں میں نمازوں کا اہتمام ہو اور تلاوت کا اہتمام ہو وہاں بچوں کو کہہ کہہ کر سکھانا نہیں پڑا کرتا بلکہ بعض دفعہ انہیں روکنا پڑتا ہے کہ یہ بے موقع بات ہے اس وقت اس بات کو چھوڑو، جن گھروں میں نمازیں ہو رہی ہوتی ہیں بعض دفعہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی چلتے چلتے سڑک پر بھی اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ یہی انگلستان میں ایک موقع پر ہم ونڈ سر کاسل دیکھتے ہوئے ہم باہر سڑک پر آئے تو ایک چھوٹی سی بچی جو ایسے گھر کی جہاں نماز ہوتی ہے اس نے اللہ اکبر کہ کر زمین پر سجدہ کر دیا۔ اس کو یہ بتانا پڑا کہ یہ جگہ نہیں ہے۔ جہاں گھروں میں عبادت سے پیا ہو، اللہ تعالیٰ کا تعلق ہو، تلاوتیں ہو رہی ہوں وہاں یہ تو نہیں کہنا پڑتا کہ یہاں کرو بلکہ بچوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہاں نہ کرو اور میرا یہ عام تجربہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے بچے بھی جو اللہ سنتے رہتے ہیں ان کو