خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 682

خطبات طاہر جلد ۵ 682 خطبہ جمعہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۶ء عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو یقیناً جماعت احمد یہ نظریاتی لحاظ سے سچ پر قائم ہے۔ لیکن یہاں صرف اس کی بحث نہیں ہو رہی ، قرآن کریم یہ فرما رہا ہے کہ تمہارا مقابلہ ہو رہا ہے ، شدت کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے ، دشمن نے بد ہتھیار اٹھائے ہیں اس پر تم نے کیا کرنا ہے ۔ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا کا مطلب ہے کہ اپنا دفاع کرو کسی بد ہتھیار سے اسی نوعیت کا بچنے والا نیک ہتھیا راٹھا کر ۔ اگر جھوٹ کے ذریعہ حملہ ہوا ہے تو لازماً سچائی سے اس کا مقابلہ ہوگا ۔ سچائی میں آگے بڑھنے سے مقابلہ ہوگا ۔ اگر بدکرداری سے حملہ کیا گیا ہے تو نیک کرداری اختیار کرنے کے ذریعہ مقابلہ ہوگا ۔ اگر گندی زبان کے ذریعہ حملہ کیا گیا ہے تو پاکیزہ زبان اختیار کرنے کے ذریعہ مقابلہ ہوگا۔ اگر ہماری سوسائٹی میں لوگوں کو گند بولنے کی عادت ہے، مرد اپنے گھروں میں بھی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں ۔ اپنی بیویوں پر اور اپنے بچوں پر یا مائیں بچوں کے والد کے متعلق استعمال کرتی ہیں یا اپنے بچوں کے لئے استعمال کرتی ہیں یا بچے ایک دوسرے کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ان کو روک کوئی نہیں رہا تو قرآن کریم کی اس آیت کے مضمون کو آپ نے نظر انداز کر دیا ہے۔ آپ پر بدکلامی سے حملہ ہو رہا ہے اور بدکلامی کا جواب قرآن کریم نے محض خاموش رہنا نہیں بتایا اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اس کے برعکس جو ہتھیار ہے، اس کے مقابل کا ہتھیار ہے، اسے اختیار کر لو۔ اپنی زبان کو زیادہ شائستہ بناؤ ، اپنے کلام کو پہلے سے زیادہ حسین بناؤ ، روزمرہ کی زندگی سے بدکلامیاں اور زشت روئی کے اظہار کو ختم کرتے چلے جاؤ۔ تمہارے کلام میں زیادہ نفاست ہونی چاہئے اور زیادہ پاکیزگی آجانی چاہئے اور اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو اپنے بڑوں کو اس کی عادت ڈالو۔ پھر وہ حملہ کرتے ہیں آپ سے قرآن کریم چھینے کا ادعا لے کر تو بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن سے زیادہ شدت کے ساتھ چمٹ ئیں۔ وہ حملہ کرتے ہیں وہ آپ سے توحید باری تعالیٰ چھینے کے لئے ، آپ کو اس کا جواب قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں یہ دینا پڑے گا کہ زیادہ موحد بن جائیں۔ دنیا میں شرک کی جتنی بھی قسمیں ہیں کوشش کر کے اور تلاش کر کے اپنے آپ کو شرک کی ان تمام قسموں سے بچائیں اور اگر کوئی آلودگی نظر آئے تو اپنے آپ کو اس سے دھوئیں اور پاک کریں اور یہ جو مضمون ہے تو حید خالص کا یہ ایک لامتناہی مضمون ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ توحید خالص اور قرآنی اعمال کا سارا نظام ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ -