خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 678
خطبات طاہر جلد ۵ 678 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء چنانچہ جماعت احمدیہ کے ساتھ اس وقت جماعت احمد یہ کے دشمن کا جو شدید مقابلہ ہو رہا ہے اور خاص قوت اور زور کے ساتھ، جیسے کہتے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ اس مقابلہ میں بھی فتح و شکست کا فیصلہ قرآن کریم کی یہ آیت کرے گی اور یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور کھلا کھلا نظر آنے لگ گیا ہے۔ کوئی بھی شک کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کے ہتھیار کیا ہیں؟ پہلے آپ پاکستان سے سنا کرتے تھے اب اس ملک میں بھی آپ نے دیکھ لئے ہیں ۔ ابھی کچھ دن پہلے بریڈ فورڈ میں جماعت احمدیہ پر بڑا شدت کے ساتھ حملہ ہوا تھا اور حملہ تھا گندی گالیوں کا بخش کلامی کا انتہائی بد خلقی کے مظاہرے کا، بھنگڑے ڈالنے کا اور آنحضرت علی علوس کی طرف منسوب ہوتے ہوئے ہوئے شرافت کے ہر تقاضے کو کلیہ چھوڑ دینے کا یہ حملہ تھا اور مذہب میں جبر اور تشد د استعمال کرنے کے دعوئی کا حملہ تھا۔ سارے ہتھیا روہ ہیں جو دیکھے بھالے، جانے پہچانے تاریخی نوعیت کے ہتھیار ہیں۔ صلى الله صلى الله قرآن کریم نے آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی علی کے زمانے تک جو تاریخ ہمارے سامنے رکھی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہی وہ ہتھیار تھے جو ازل سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کے آخری دور نبوت تک دشمن نے استعمال کئے اور کبھی بھی ان میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ۔ پس یہ ہتھیار ایسے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم کا فتویٰ ہے مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ یہ خفیف ہتھیار ہیں اور خفیف کر دینے والے ہتھیار ہیں ۔ یہاں خفیف سے مراد ہے جو ہلکے ہو جائیں ، جن کو زمین قبول نہ کرے، جن کو ثبات قدم نصیب نہ ہو ، جوشجرہ خبیثہ کی طرح اکھڑ جائیں اور جن کو ہوائیں بکھیر دیں یہاں سے اٹھا کر ادھر لے جائیں، کبھی وہاں سے لے کر دوسری طرف دھکیلتی ہوئی لے چلیں ، غرضیکہ ان کو کوئی قرار نہ رہا ہو، ان کے اندر کسی جگہ ثابت قدم ہونے کی صلاحیت موجود نہ ہو۔ تو یہی وہ ہتھیار ہیں جو اس ملک میں انہوں نے آکر استعمال کئے ہیں ۔ یہی وہ ہتھیار ہیں جو ایک لمبے عرصہ سے بڑی شدت کے ساتھ اور بڑی سفا کی کے ساتھ وہ پاکستان میں استعمال کر رہے ہیں۔ کل سے ربوہ میں ختم نبوت کے نام پر ایک جلسہ ہو رہا ہے اور وہ شہر جہاں نناوے فیصد آبادی احمد یوں کی ہے وہاں احمدیوں کو تو اجازت نہیں کہ قرآن کریم کا درس بھی لاؤڈ سپیکر پر دے سکیں ، نیکی کی بات کر سکیں ۔ وہاں ان نام نہاد علماء کو کھلی آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ اور ان کے چیلے چانٹے اکٹھے ہو کر جس قدر بھی مغلظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بک سکیں بکتے