خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد ۵ 676 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُے ایک ترجمہ جو معروف ہے وہ یہ ہے کہ جس کے اعمال میں وزن زیادہ ہوگا اور ایک ترجمہ اس کا یہ ہے کہ جس کے پلڑے میں زیادہ ساز وسامان ہوگا ، زیادہ قوی ساز و سامان ہوگا ، زیادہ مضبوط ساز وسامان ہوگا اور یہ دونوں پہلو ہر جد و جہد کے فیصلے کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ در حقیقت اگر اعمال کا ترجمہ بھی کیا جائے تو اس کا ترجمہ بنیادی نقطہ نگاہ سے یہ بھی بن سکتا ہے کہ وہ قو میں جو ٹھوس عمل کرنے والی ہیں مسلسل محنت کرنے والی ہیں، جو اپنے وقت کو ضائع نہیں کرتیں ، جن کے پلڑے میں بہت ہی مفید اور باقی رہنے والے اعمال ہوں، ان کی جب بھی لڑائی ایسی قوموں سے ہو جو سست اور غافل ہوں ، جو صناعی سے ناواقف ہوں ، اچھے کام کرنے کی اہلیت نہ رکھتی ہوں ، محنت کی عادت نہ رکھتی ہوں ، ایسی قوموں کے ساتھ جب ان کا مقابلہ ہوگا تو وہ جو محنت کرنے والی قومیں ہیں جنہوں نے اپنے لئے بہت کچھ بنالیا ہے وہ بہر حال غالب آئیں گی ۔ دوسرے پہلو کے لحاظ سے جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے اسی سورۃ کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ قو میں جن کے ہتھیار زیادہ مضبوط ہوں گے اور زیادہ وزنی ہوں گے ۔ وزن سے مراد یہاں تول کا وزن نہیں ۔ ور نہ ہو سکتا ہے کہ پرانے زمانہ کے گزز سے آج کل کے زمانہ کی رائفل بہت ہی ہلکی ہو تو یہاں ثَقَلَتْ مَوَازِينُهُ اور خَفَّتْ مَوَازِينه کا جو مقابلہ کیا گیا ہے۔ اس سے ہرگز ظاہری وزن مراد نہیں بلکہ حقیقی وزن ہے یعنی ایسا ہتھیار جس میں قوت زیادہ ہے۔ تو قوت والے ہتھیار جس کے پاس زیادہ ہوں گے وہ غالب آجائے گا اور محض جوش و خروش کام نہیں آئے گا۔ تو آئندہ زمانے کی جنگوں کا نقشہ حضرت مصلح موعود کی تفسیر کے مطابق اسی سورۃ کی اس آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ آئندہ جب بھی دنیا میں ہولناک جنگیں ہوں گی تو جس فریق کے پاس بھی وزن دار ہتھیار ہوں گے ، قوت والے ہتھیار ہوں گے، غالب آنے والے ہتھیار ہوں گے وہ فریق غالب آجائے گا اور عملاً یہ دونوں ترجمے ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں ۔ جو قو میں محنت کرتی ہیں جن کے اعمال کا پلڑا بھاری ہے خواہ وہ دنیا میں ہو خواہ وہ دین میں ہو اس کے نتیجے میں یہ دونوں باتیں ان کو حاصل ہو جاتی ہیں ۔ ان کے اعمال ان قوموں کی زندگی بنا دیتے ہیں ، ان میں بقا پیدا کر دیتے ہیں، باقی رہنے کی صلاحیتیں ان کی اجاگر ہو جاتی ہیں اور ان کے دفاع کے ہتھیار مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ کیونکہ یہ ایک ایسا اٹوٹ تعلق ہے اقتصادی ترقی اور دفاعی