خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد ۵ 61 خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء یمن کے اس شہر میں پہنچے جہاں سلطنت بھی فارس کا گورنر رہتا تھا تو ابھی تک اس گورنر کو کسری کے قتل کئے جانے کی کچھ خبر نہیں پہنچی تھی۔ اس لئے اس نے بہت تعجب کیا۔ مگر یہ کہا کہ اس عدول حکمی کے تدارک کے لئے ہمیں جلد تر کچھ نہیں کرنا چاہئے جب تک چند روز تک پایہ سلطنت کی ڈاک کی انتظارنہ کر لیں۔ سو جب چند روز کے بعد ڈاک پہنچی تو ان کا غذات میں سے ایک پروانہ یمن کے گورنر کے نام نکلا ۔ جس کو شیر و یہ کسری کے ولی عہد نے لکھا تھا۔ مضمون یہ ا تھا کہ کہ خسرو میرا باپ ظالم تھا اور اس کے ظلم کی وجہ سے امور سلطنت میں فساد پڑتا جاتا تھا اس لئے میں نے اس کو قتل کر دیا ہے ۔ اب تم مجھے اپنا شہنشاہ سمجھو اور میری اطاعت میں رہو۔ اور ایک نبی جو عرب میں پیدا ہوا ہے جس کی گرفتاری کے لئے میرے باپ نے تمہیں لکھا تھا اس حکم کو بالفعل ملتوی رکھو ۔“ 66 تریاق القلوب روحانی خزائن جلد نمبر ۱۵ صفحه ۳۷۶-۳۷۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس ضمن میں جو لیکھرام کا ذکر فرمایا ہے یہ الله عروسه بلا حکمت نہیں ہو سکتا۔ عملا لیکھرام بھی آنحضرت صلے کی شدید گستاخی کے نتیجہ میں مارا گیا ہے اور آپ صلى الله ہی کی تلوار سے مارا گیا ہے ۔ بترس از تیغ بران محمد ﷺ ۔ اور یہاں بھی خدا تعالیٰ نے وہی نظارہ دکھایا ہے کہ اس کو بھی انسان نے ہی مارا اور انسان کے ذریعے ہی یہ پکڑا گیا اور براہ راست آسمانی تجلی سے نہیں مارا گیا۔ یعنی تجلی تو تھی لیکن انسانی دخل کے بغیر نہیں مارا گیا۔ ۔ پس آنحضرت ﷺ کے ساتھ تعلق رکھنے والے دشمنوں کو جتنے بھی عذاب ملے ہیں وہ اس میں خدا تعالیٰ نے انسانی ہاتھ کو استعمال فرمایا اور اس قسم کے عذاب نازل نہیں فرمائے جیسے کہ پہلی قوموں کو دیئے گئے تھے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ کے لئے اسلام میں اب کوئی اقتداری تجلی دوسرے عذابوں کے ذریعے ظاہر نہیں ہوگی ۔ کیونکہ خود قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ زمانہ میں دابۃ الارض نے ظاہر ہونا ہے جو زمین سے ظاہر ہونے والا ایک عذاب ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کی بعض اور پیش خبریوں سے پتہ چلتا ہے کہ آسمان سے بھی کئی قسم کی بلائیں نازل ہوں گی ۔ مگر جہاں تک حضور اکرم ﷺ کا تعلق ہے آپ کو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کا نشان ، آپ کی صلى الله عروسة