خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 638
خطبات طاہر جلد ۵ 638 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء تیرے اعلیٰ اخلاق سے عاری ہے، تیری صفات حسنہ اس میں موجود نہیں ۔ بیٹا تو وہ ہوتا ہے جو باپ کا اثر قبول کرے جو باپ کی خاتمیت کا نقش ہو۔ پس آپ کو خاتم بننا ہے۔ ان معنوں میں بھی خاتم بننا ہے۔ آپ کی اولاد نے اگر آپ کا نقش قبول کر لیا تو پھر آپ باپ بننے کے اہل ہیں ورنہ اگر آپ کا قصور ہے تو آپ پکڑے جائیں گے اور اگر اولاد کا قصور ہے تو اولا د پکڑی جائے گی۔ اس لئے کم سے کم اپنا دامن تو بچا ئیں ۔ حضرت نوح کے معاملے میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت نوح کا قصور نہیں تھا۔ آپ خاتم ہی تھے اپنے چھوٹے دائرے میں لیکن یہ اولاد کی بد قسمتی تھی لیکن ایسے واقعات اتفاقی ہیں اور قرآن کریم نے جو تاریخ انبیاء کی محفوظ کی ہے اس میں خوف کا پہلو کم ہے اور امید کا پہلو بہت غالب ہے۔ اس ایک مثال کے مقابل پر بکثرت ایسے انبیاء کی مثالیں دیں جن کی نیکیاں ان کی اولادوں میں بڑی شان کے ساتھ اور بڑے وفور اور جذبہ کے ساتھ جاری ہوئیں یہاں تک کہ نبیوں کی اولاد در اولاد نبی بنتی رہی۔ تو خدا تعالیٰ نے مایوس کرنے کے لئے یہ خبر نہیں دی نہ حضرت نوح کو نعوذ باللہ متہم کرنے کے لئے یہ خبری دی ہے بلکہ یہ بتایا ہے کہ خاتمیت اپنے اپنے دائرہ میں اثر دکھانے کے لئے پیدا کی گئی ہے اور حقیقت میں بیٹا اور باپ کا تعلق خاتمیت اور مختومیت کا تعلق ہے۔ اگر تم اس لائق ہو کہ اپنی اولاد میں اپنی صفات جاری کردو، نیک صفات تو بہت محنت کا کام ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن پھر تم مرد کہلانے کے مستحق ہو گے اور نیک خواتین کہلانے کی مستحق ہوگی اگر تم ایسا کرو گی تو پھر یہ حدیث تمہارے متعلق ضرور پوری آئے گی کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے اولاد کے لئے جنت ہے۔ کتنی عظیم الشان تمنا کتنی عظیم الشان توقع ہے جو آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کی خواتین سے وابستہ فرمائی ہے کبھی یہ بھی تو سوچیں ۔ اتنا صلى الله صلى الله پیارا کلام ہے، ایسا محبت کا کلام ہے ، ایسی نیک ظنی ہے امت محمدیہ کی خواتین پر کہ نگاہ پڑتی ہے تو رشک آتا ہے کہ کیسی مقدس خواتین ہیں جن کے متعلق محمد مصطفی ﷺ نے یہ الفاظ فرمائے کہ آئندہ آنے والی نسلیں خواہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں ، اپنی ماؤں کے پاؤں سے جنت حاصل کریں ۔ کتنی بد قسمتی ہوگی کہ آپ کی اولادیں آپ کے پاؤں سے جنت لینے کی بجائے جہنم لینے والی ہوں۔ لینے پس آپ پر ایک بہت ہی عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے دعائیں کریں اور کوشش کریں اور ایک دوسرے دوسرے کو نصیحت کرتی چلی جائیں لیکن تکبر کی نصیحت نہ ہو، طعن و تشنیع کی نصیحت نہ ہو بلکہ