خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 609
خطبات طاہر جلد ۵ 609 خطبه جمعه ۱۹ ستمبر ۱۹۸۶ء کے نتیجہ میں ہر طرف گس گھولی جاتی ہے، زہر پھیلتا ہے ، خاندان خاندانوں سے لڑتے ہیں ، بیوی خاوند سے لڑتی ہے، ساس بہو سے لڑتی ہے اور سارے گھر کا امن برباد ہو جاتا ہے۔ پھر فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو بے وجہ خیال آرائیاں نہ کیا کرو اجْتَنِبُوا كَثِيرًا من الظن تم وہموں میں مبتلا رہ کر ہی زندگی گزار دو گے؟ سوچتے رہتے ہو کہ فلاں نے یہ بات کیوں کی ہوگی ، کس کے لئے کی ہوگی ، کس بری نیت سے کی ہوگی یا فلاں کا یہ فعل کیوں ہوا ہو گا اور اس کے نتیجہ میں اپنے ذہنوں میں ہی کہانیاں بنتے رہتے ہو اور ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پالتے رہتے ہو۔ چنانچہ معاشرہ میں بہت سی برائیاں گھروں میں كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ ظن بالکل نہ کرو کیونکہ استنباط ایک ظن کا حصہ ہے۔ بعض مواقع پر بعض علامتیں ظاہر ہوں تو ظن کے بغیر چارہ نہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ اپنی زندگی کو ظنوں کے سپرد نہ کر دو گویا کہ تم ظنوں کے ہو کر رہ گئے ہو تو ہمات ، بے بنیاد باتیں سوچنا اور یہ نہیں فرمایا کہ ہر ظن گناہ ہے بلکہ فرمایا اِنَّ بَعْضَ الظَّن اثم بہت زیادہ ظن کی عادت ڈالو گے تو بعض ظن ایسے ہوں گے ، بعض گمان ایسے ہوں گے جو گناہ بھی ہو جائیں گے ۔ اسی لئے ہمارے محاورے میں حسن ظن اور سوء ظن دو محاورے پائے جاتے ہیں۔ تو جب فرمایا اجْتَنِبُوا كَثِير مِنَ الظَّنِ تو مراد یہ ہے کہ سوء ظن سے بچو اور یہ کہنے کی بجائے کہ سوءظن سے بچو جب یہ فرمایا کہ اکثر ظن نہ کیا کرو تو مراد یہ ہے کہ عموما ظن کی عادت اچھی نہیں ہے۔ ایک بہت ہی لطیف رنگ ہے۔ یہ بات کو بیان کرنے کا اگر آپ جدید رحجانات سائنس کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت ہی گہری سچائی ہے اس طرز بیان میں ۔ جو لوگ ظن پر مائل ہوتے ہیں وہ شواہد کے تلاش چھوڑ دیتے ہیں اور جو لوگ شواہد کی فوقیت دیتے ہیں وہ ظن سے اکثر بچتے ہیں ۔ مجبور ہو جائیں تو ظن کرتے ہیں ورنہ وہ شواہد کے پیچھے چلتے ہیں ، شواہد کے جستجو میں رہتے ہیں۔ تو یہ ایک بنیادی اصول ہے جو قوموں کے لئے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اگر وہ اس کی کنہ کو پا جائیں ۔