خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد ۵ 591 خطبه جمعه ۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء آنحضور کے اخلاق کے قریب تر رہنے کی کوشش کریں جو خلق عظیم پر فائز تھے ( خطبه جمعه فرموده ۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی :۔ نَ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ : وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ بِأَيْكُمُ الْمَفْتُونَ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ )۱۱القلم : ۱۔( سورۃ القلم کی پہلی گیارہ آیات کی میں نے تلاوت کی ہے۔ اس صورت کا آغاز لفظ ان سے ہوتا ہے۔ ان کے بہت سے مفاہیم ہیں لیکن علماء عموماً اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں اول طور پر ان سے مراد دوات ہے یعنی وہ ظرف جس میں روشنائی ڈالی جاتی ہے۔ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ اور وہ قلم اور وہ تحریر جو دوات اور قلم لکھتے ہیں یا لکھنے والے لکھتے ہیں ، ان سب کو خدا تعالیٰ گواہ ٹھہرا رہا ہے۔ کس بات کا گواه ها صلى الله کا گواه ها اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ۔ اے محمد تو تو خدا تعالیٰ کی نعمت کے نتیجے میں ہرگز مجنون نہیں ہے ۔ وَ إِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ اور یقیناً تیرے لئے نہ ختم : نہ ختم ہونے