خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 587
خطبات طاہر جلد ۵ 587 خطبه جمعه ۵ ستمبر ۱۹۸۶ء کے اندر اور یہ جو الزام لگایا جاتا ہے کہ قتل ہو گیا ہے اس کا کوئی ثبوت ہی نہیں ہے۔ ان سب باتوں کے با وجود ان کو یعنی مشتاق احمد صاحب کو یا جو بھی نام ہے مجھے اس وقت مشتاق نام یاد ہے ، ان کو دوبارہ پکڑا گیا ہے۔ اور غالبا وہ ہا ہے۔ اور غالبا وہ جو دو وعدہ معاف گواہ بنا۔ ه جو دو وعدہ معاف گواہ بنائے جا رہے ہیں ان سے تعارف کروادیا گیا ہو گا یا ان کو دکھا دیا گیا ہوگا اور کہانی یہ بنائی جا رہی ہے کہ مشتاق احمد صاحب چوہدری مشتاق احمد ، مجھے پورا نام یاد نہیں یا محمد مشتاق یا جو بھی ہے ، ان کو اور چوہدری محمد اعظم صاحب کو جو سابقہ MPA رہے ہیں ان کو ملوث کیا جائے اور دو وعدہ معاف گواہ یہ کہہ دیں کہ ان دونوں نے ہمیں کہا تھا کہ تم یہ کام کرو اور یہ مسئلہ کہ اگر کوئی مرا ہی نہیں تو اس کی لاش کہاں سے مہیا کی جائے گی ، یہ مسئلہ پاکستانی پولیس کے لیے غالبا حل کرنا کوئی مشکل نہیں ۔ کسی گڑھے مردے کو اکھاڑا جا سکتا ہے اور جب حکومت کے اعلیٰ ترین نمائندوں کی طرف سے ہدایات جاری کی جا رہی ہوں اور سازشیں وہاں پنپ رہی ہوں تو ایسی صورت میں پولیس یہ مجھتی ہے کہ ہم بے خوف ہیں ہمیں کوئی ایسی حرکتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا۔ اگر موجودہ حکومت کی وہ کہانی درست ہے جو بھٹو صاحب کے متعلق بنائی گئی اور جس کے نتیجے میں ان کو پھانسی دی گئی تو اس زمانے کی پولیس بھی یہی سمجھتی تھی ، اگر یہ واقعہ درست ہے، تو ان کو بھی یہی خیال تھا کہ جب حکومت کی طرف سے ہمیں یہ ہدایت دی جا رہی ہے تو حکومت ہمیں خود ہی سنبھال لے گی۔ اس لئے یہ بعید نہیں ہے کہ پولیس کے بعض افسر اپنی اعلیٰ ترقی کی خاطر ایسی گری ہوئی حرکتوں میں اور ایسی خطرناک حرکتوں میں حکومت کے منشاء کے مطابق ملوث ہو جا ئیں ۔ علاوہ ازیں اور بھی بہت سی ایسی اطلاعیں مل رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ہر اوچھا ہتھیار استعمال کر کے جماعت احمد یہ کو مزید ظلموں کا نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کی بقاء کا تعلق ہے اور جماعت احمدیہ کے اندرونی استحکام کا تعلق ہے یہ بات تو اسی طرح شک سے بالا ہے جس طرح ہم اس وقت سورج کو آسمان پر دیکھ رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے استحکام کو خواہ موجودہ حکومت ہو یا دنیا کی کوئی حکومت ہو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتی ۔ کوئی حکومت دنیا کی متزلزل نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے استحکام کی ضمانت خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے اور اسی کا بنایا ہوا کارخانہ ہے اور اس کی بنیادیں تو مستحکم ہیں۔ جہاں تک انفرادی طور پر چند احمدیوں کو مزید اذیت دینے کا تعلق ہے، یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا