خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 585 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 585

خطبات طاہر جلد ۵ 585 خطبه جمعه ۵ ستمبر ۱۹۸۶ء پاکستان میں جماعت کے <mark>خلاف</mark> انتقامی کارروائیاں جماعت کو صبر اور دعاؤں کی تحریک خطبه جمعه فرموده ۵ ستمبر ۱۹۸۶ء بمقام ناروے) تشہد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پاکستان میں جوں جوں سی<mark>اس</mark>ی عدم <mark>اس</mark>تحکام بڑھتا جا رہا ہے اور عوام الن<mark>اس</mark> میں شدید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔<mark>اس</mark> عدم <mark>اس</mark>تحکام اور بے چینی کی جھلک حکومت کی حرکتوں میں نمایاں ہوتی جارہی ہے۔موجودہ حکومت سخت ہر<mark>اس</mark>اں ہے اور خوفزدہ ہے اور اپنے بچاؤ کے لئے ہر ایسی حرکت کرنے کے لئے بھی تیار ہے جو عام دنیاوی سی<mark>اس</mark>ی اصولوں سے خواہ کس حد تک گری ہوئی کیوں نہ ہو اور انسانی اخلاقی اقدار سے خواہ کس حد تک گری ہوئی کیوں نہ ہو۔اگر چہ مذہب کا نام بہت <mark>اس</mark>تعمال ہو رہا ہے لیکن <mark>اس</mark> حکومت کی اداؤں میں ہر چیز ہے صرف مذہب نہیں کیونکہ مذہب کی بنیاد تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور خدا کے خوف پر ہوا <mark>کرتی</mark> ہے۔خواہ مذہب کسی شکل کا بھی ہو، دنیا کے کسی خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو <mark>اس</mark> کا مرکزی نقطہ خدا ہی کی ذات ہے اور خدا سے تعلق اور خدا کی ناراضگی کا خوف یا خدا سے تعلق کی تمنا اور خدا سے ناراضگی کا خوف یہ دو قو تیں ہیں جو ہر مذہب کے رگ وپے میں دوڑتی ہیں۔<mark>اس</mark> نقطہ نگاہ سے موجودہ حکومت کے سابقہ کردار کو آپ لے لیں یا موجودہ حرکتوں کو دیکھ لیں ان میں ہر دوسری چیز تو پائی جائے گی، مذہب کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ سی<mark>اس</mark>ی عدم <mark>اس</mark>تحکام کے بڑھنے کے نتیجے میں اور عدم