خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 580 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 580

خطبات طاہر جلد ۵ 580 خطبه جمعه ۲۹ را گست ۱۹۸۶ء کر اس طرح جس طرح انبیاء میں سے اولوالعزم نے پہلے صبر کیا تھا۔ غور کے بعد میں اس کا صرف یہی مطلب سمجھا کہ یہ ایک محض پیار اور محبت اور تسلی کا ایک طریق تھا اس سے زیادہ اس کے کوئی معنی نہیں ۔ علی صلى الله آنحضرت ﷺ کو یہ نہیں بتانا تھا کہ تو پچھلے نبیوں سے صبر کے سبق سیکھ کیونکہ آنحضرت کسی نبی سے کوئی سبق نہیں سیکھ سکتے تھے ۔ آپ سکھانے والے تھے، آپ پاکیزہ لوگوں کو بھی پاکیزہ بنانے آئے تھے، متقیوں کو مزید تقوی سکھ کو مزید تقویٰ سکھانے کے لئے آئے تھے۔ تمام انبیاء کے تمام خلق جو اجماعی طور پر سارے انبیا میں تھے آنحضرت ﷺ کی ذات میں اکیلے میں وہ سارے خلق جمع تھے اور ہر خلق اپنی ہرشہ ہر خلق اپنی ہر شان میں پہلے انبیاء کے خلق سے بڑھ کر تھا ۔ یہ ہمارا دعوی ہی نہیں بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ہم مقابلہ ہر نبی کے اعلیٰ ترین خلق کو لے کر آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے سامنے رکھ کر یہ ثابت کر سکتے ہیں ۔ اس لئے میں یہ کہتا ہوں کہ اس آیت کا یہ مطلب تو بہر حال نہیں لیا جا سکتا کہ اے محمد ! تو گزشتہ انبیاء سے صبر کے گر سیکھ ، تو پھر اس کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں رہتا جس طرح پیار تو سے کوئی کسی سے کہے کہ تم اس بات میں اکیلے نہیں ہو، پہلے بھیتم سے لوگ گزرے ہیں اور تم سے تو زیادہ توقع ہے تم تو آگے بڑھنے والوں میں سے ہو ۔ یاد رکھو تم سے پہلے بھی نبی گزرے تھے جو اولوا العزم تھے، ان کی طرح صبر کرو یعنی صبر میں ان سے آگے بڑھ کر دکھاؤ ، اولوا العزمی میں ان سے آگے قدم رکھو۔ یہ تحریض تھی اور یہ بتانا مقصود تھا کہ تم اکیلے نہیں ہو اس میدان میں، پہلے بھی گزر چکے ہیں اور چونکہ تم ہر میدان میں آگے بڑھنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو اس لئے تمہارا فرض ہے کہ ہر صبر کے ادا میں پہلے نبیوں سے آگے بڑھ جاؤ اور عزم میں بھی آگے بڑھ جاؤ۔ یہ مضمون صرف ہماری محبت اور عشق کے نتیجہ میں نہیں پیدا ہوتا بلکہ قرآن کریم سے قطعی ثبوت ملتا صلى ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ہر خلق میں پہلوں سے آگے بڑھنے کی خاطر پیدا کیا گیا تھا اور آپ کی امت کو بھی صلى الله علي اسی لئے پیدا کیا گیا تھا کہ ہر خلق میں پہلی امتوں سے آگے بڑھ جائے ۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 1) ۔ اے محمد مصطفی ﷺ کی امت ! تم تمام امتوں میں سے سب سے بہتر امت ہو تم سے بہتر کبھی کوئی امت پیدا نہیں ہوئی۔ پھر فرمایا ۔ وَلِكُلِّ وَجْهَةً هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرہ: ۱۴۹) ہر قوم کے لئے ہم