خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 577
خطبات طاہر جلد ۵ 577 خطبه جمعه ۲۹ اگست ۱۹۸۶ء بندوں فخر کے ساتھ اس میں شامل نہیں ہو رہی لیکن پاکستان کی موجودہ حکومت کی بد قسمتی ہے کہ بڑے فخر کے ساتھ اعلان ہو رہے ہیں۔ وزیر مذہبی امور یہ اعلان کر رہے ہیں خاص مشیر وزیر اعظم کے با قاعدہ ڈسی سی کو حکم دے رہے ہیں ، ٹیلیفون پر اسلام آباد سے رابطہ ہے کہ ان کو اور مارو اور تنگ کرو۔ جو آخری خبریں آئی ہیں ان کے مطابق گیارہ آدمی جو ابھی تک ان ”جرموں میں قید ہیں براہ راست بسم اللہ پڑھنے کے جرم میں یا کلمہ پڑھنے کے جرم میں یا قرآن کریم پڑھنے کے جرم میں ۔ ان جرائم کو حکومت اتنی بھیا نک نظر سے دیکھ رہی ہے رسے دیکھ رہی ہے کہ ایک وکیل نے جب ان سے ملنے کی کوشش کی تو یہ کہہ کر پہلے انکار کر دیا گیا کہ یہ قیدی اتنے سنگین جرائم کی پاداش میں قید ہوئے ہیں کہ ہم ان کو وکیل سے ملنے کی بھی اجازت نہیں دے سکتے ۔ وہ چونکہ انگلستان کے پڑھے ہوئے ایڈووکیٹ تھے انہوں نے شور مچایا انہوں نے کہا کہ تم مجھے قانون سکھا رہے ہو کون سے جرائم ہیں یہ؟ بسم اللہ پڑھنے کے جرم میں ، قرآن کریم پڑھنے کے جرم میں، میں اپنا حق لے کر چھوڑوں گا اور یہ میرا حق ہے قانونی۔ میں ان کا وکیل ہوں اس لئے میں ان سے ملوں گا۔ چنانچہ بہت لمبے احتجاج کے بعد ان کو ملنے کی اجازت دی گئی اور ان کی اطلاع کے مطابق ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے کہ روزانہ صبح ان کو چھ اور پانچ گیارہ آدمیوں کو پھانسی کی تنگ کوٹھڑی میں قید کیا جاتا ہے شدید گرمی میں اور رات کو نو بجے وہاں سے ان کو نکالا جاتا ہے اور حکومت کا حکم یہ ہے ان جیلروں کو کہ اس عرصہ میں جتنی اذیتیں دے سکتے ہو ان کو دو کیونکہ ”جرم“ بہت بڑا بھیانک ہے۔ یہ حالات ہیں اس ملک کے جہاں یہ ساری باتیں عام ہیں ۔ یعنی اس میں کوئی راز کی بات نہیں ہے، اخباروں میں چھپتی ہیں فخر کے ساتھ ان کے وزیر ان باتوں کو بیان کرتے ہیں اور جب احمدی ان باتوں کو دوسرے ملکوں میں پہنچاتے ہیں یا آگے ان کی تشہیر کرتے ہیں تو اس کے بعد یہ خبریں بھی چھپتی ہیں کہ دیکھو کتنے بڑے ملک دشمن ہیں یہ لوگ کتنا خطرناک پاکستان کے خلاف پرو پیگنڈا کر رہے ہیں۔ پروپیگنڈ ا وہ کر رہے ہیں جن کو فخر کے ساتھ اپنے اخباروں میں چھاپتے ہو اور جب اخباروں میں چھپی ہوئی خبروں کو احمدی باہر پہنچاتا ہے تو کہتے ہیں یہ ملک کے دشمن ہیں، ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور نہایت گندا اور بھیانک پرو پیگنڈا کر رہے ہیں ، یعنی وہ فعل جو اپنی ذات میں جرم نہ ہو، وہ فعل جو اپنی ذات میں بھیا تک نہ کہلائے اس کا ذکر باہر اس فعل کو