خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد ۵ 575 خطبه جمعه ۲۹ اگست ۱۹۸۶ء سے بڑی بد بختی کبھی کسی قوم کے ماتھے پر نہیں لکھی گئی تھی جتنی آج کے بد بخت صدر اور اس کے ملانوں کے ماتھوں پر یہ کلنک کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے انہوں نے ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو ذلیل و خوار کر لیا ہے۔ قیامت تک تاریخ بھی ان پر لعنت ڈالے گی اور آسمان کے فرشتے بھی ان پر لعنت ڈالتے چلے جائیں گے ۔ یہ اسلام کا حال کرنے کے لئے ایک فوجی استبداد کی حکومت اٹھی تھی جس نے آج قوم کو اس طرح ہلاکت کے کنارے تک پہنچا دیا ہے۔ اور مردان کے کسی غیور پٹھان کو غیرت نہیں آئی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ وہ احمدی جو حراست میں تھے اگر ان میں سے کوئی ہوتا تو وہ اپنی جان کی بازی لگا دیتا ، وہ خون کا آخری قطرہ بہا دیتا مگر یہ ذلت دیتا، قرآن کریم کی برداشت نہ کر سکتا تھا لیکن سارا شہر آباد تھا غیور پٹھانوں سے اور کسی کو غیرت نہیں آئی۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ ان لوگوں کو جا کر پکڑیں پوری طرح باز پرس کریں ان سے۔ ہر قیمت پر ان کو اس بے حیائی سے روکیں کہ اسلام کے نام پر اسلام کی سب سے مقدس کتاب بلکہ کائنات میں جتنی بھی کتابیں نازل ہوئیں ان سب کی سرتاج ، ان سب سے زیادہ مقدس کتاب کی ایسی بے حیائی کے ساتھ مسلمان بے عزتی اور رسوائی کر رہے ہوں اور کسی کو کچھ خیال نہ آرہا ہو۔صرف اس لئے کہ جماعت احمدیہ کی مساجد میں وہ قرآن کریم ملتا تھا اس لئے اس قرآن کریم کی کوئی عظمت اور کوئی حرمت باقی نہیں رہی انکے نزدیک ۔ صا علي میں نے ذکر کیا تھا گزشتہ مرتبہ کہ یہ سب کچھ ایک طرف جہاں اسلام کے نام پر ہو رہا ہے اور تحریک کا آخری مقصد یہ ہے کہ زبر دستی مسلمانوں کو غیر مسلم بنا کے چھوڑیں گے۔ جب تک ہم یہ نہ کر لیں چالیس لاکھ مسلمان کلمہ گو کلمہ سے تو بہ نہ کر لیں ، خدا کی توحید کا انکار نہ کر لیں ، حضرت محمد مصطفیٰ کی تکذیب نہ کریں اس وقت تک ان کے دل کو چین نہیں آئے گا ، اس وقت تک ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوں گے اور اگر نہیں کریں گے تو وہ ان کے گھروں کو آگیں لگا ئیں گے، ان کی مساجد مسمار کریں گے ، ان کو قید خانوں میں ڈالیں گے، ان پر چھوٹے قتل کے مقدمے چلائیں گے۔ جو کچھ صلى عروس ان سے بن سکا بنا ئیں گے لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ چالیس لاکھ مسلمان آنحضرت ﷺ کا کلمہ پڑھ رہے ہوں اور خدا تعالی کی وحدت کے گیت گا رہے ہوں ۔ میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ یہی کچھ ہندوستان میں بھی ہو رہا ہے اور ہندوستان