خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 566 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 566

خطبات طاہر جلد ۵ 566 خطبه جمعه ۲۲ را گست ۱۹۸۶ء ہاتھ میں آئی وہ لے کر اڑ گیا ۔ یہاں تک کہ پیچھے صرف پولیس اور چند ملاں اور ان کے چیلے چانٹے مسجد مسمار کرنے کیلئے رہ گئے ۔ ایک وقت میں ان کی تعداد میں رہ گئی تھی صرف اور باقی پولیس ساتھ تھی اور وہ پورے تعاون کے ساتھ پولیس نے مسلسل محنت کی ہے سارا دن مسجد گرانے میں ۔ یہ شدھی کی تحریک اب دیکھ لیجئے اس تحریک سے کتنی زیادہ خوفناک اور بھیانک اور ذلیل اور کمینی تحریک ہے ۔ ہندوستان کی حکومت مسلمان حکومت نہیں ہے لیکن باوجود اس کیہندوستان کی حکومت اپنی پولیس کو یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ مسلمانوں کے عبادت خانوں کو مسمار کرے اور زبردستی ان کی چیزوں کو چوری کروانے میں ان کو مدد دے اور پولیس کے سائے تلے کھلم کھلا چوری اور ڈاکے کے واقعات ہوں اور سارے شہر کے دیکھتے میں یہ سارا واقعہ ہو رہا ہے اور سارا دن ہوتا چلا گیا ہے۔ جب جماعت نے اس عرصہ میں بڑا وقت ملا، مختلف افسروں سے ملاقاتیں کیں ، حکومت صوبہ سرحد کے سیکریٹریٹ میں پہنچے ، سیکریٹریوں سے ملاقات کیں، وزراء سے ملاقاتیں کیں ، گورنر سے ملے تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ صوبہ سرحد کی حکومت کو پتہ ہی نہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اور سب لوگ بات بتانے سے گھبراتے تھے کہ اصل واقعہ کیا ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بار بار بیان کیا ہے، ملا کا پیٹ بظاہر بھاری بھی ہولیکن بات چھپانے میں بہت ہلکا ہے۔ خاص طور پر جو اس تحریک کے سرکردہ ہیں وہ فخر لینے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ ہم اس کارستانی میں اوّل اوّل تھے وہ بات چھپاتے نہیں اور بات نکل جاتی ہے۔ چنانچہ جستجو کے بعد جو حقیقت سامنے آئی وہ یہ تھی کہ صوبہ سرحد کی حکومت اس موقف میں حق بجانب تھی کہ ہمیں علم نہیں ہے۔ واقعہ ان کوعلم نہیں تھا۔ گزشتہ دنوں جب سیاسی حالات بگڑ نے شروع ہوئے تو جماعت احمدیہ کے ایک ایسے دشمن کو جو اپنی سفلہ صفات میں معروف و مشہور ہے اور جو پہلے صدر صاحب کا مشیر تھا اسی بات کے لئے کہ جماعت احمدیہ کو کس طرح گزند پہنچایا جائے جب وہ الیکشن میں ناکام ہو گیا تو اسے Ambassador بنا کر باہر بھجوایا دیا گیا اور باوجود ا سکے کہ ہر طرف سے احتجاج ہوئے بلکہ غیر ملکی اخباروں نے بھی اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ شخص جو بری طرح ذلت کے ساتھ اپنے علاقہ میں الیکشن جیتنے میں ناکام رہا ہو جبکہ اس کا سر پرست ، اسکا سر براہ اسکو پوری تقویت دے رہا ہو ۔ مارشل لاء نافذ ہوا ہو اور اس کی ساری طاقتیں اس کی مدد کر رہی ہوں ۔ علماء کو کھلم کھلا اس بات کی حکومت کی ۔