خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 544

خطبات طاہر جلد ۵ 544 خطبه جمعه ۱۸ اگست ۱۹۸۶ء میرے پاس آئے ہو کہ آج یہ فیصلہ ہوا ہے کہ وہ ایک کروڑ مسلمان جو کل تک مسلمان تھے، آج سے غیر مسلم ہو گئے ہیں اور اس خوشی میں مجھے چراغاں کرنے کے لئے کہتے ہو ۔ سر پھینک کے وہ لوگ واپس چلے گئے ۔ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ (البقره: ۲۵۹) والی کیفیت ان کی ہوئی۔ لیکن افسوس کہ ان کو اس حقیقت کی سمجھ نہ آسکی ۔ آنحضرت ﷺ کے نام پر اگر یہ ادعا کرتے کہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور صرف ہمیں اگر مردہ سمجھتے ہیں تو یہ چاہئے تھا کہ احمدی مردوں کو بھی زندہ کریں گے اور غیر مسلم مردے جتنے بھی دنیا میں دکھائی دیتے ہیں ہم اس حیات بخش پیغام یعنی اسلام کے ذریعہ ان کو زندہ کرتے چلے جائیں گے۔ تو پھر اس آیت کی رو سے ہم ان پر حرف نہیں رکھ سکتے تھے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ دعوی سچا ہوتا یا جھوٹا ہوتا ، کس حد تک ان کے اس دعوی میں سچائی تھی ۔ اس کا فیصلہ اسی نے کرنا ہے جو فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ لیکن ظاہری طور پر ہمیں حق نہ رہتا کہ ہم ان پر انگلی رکھ سکیں ۔ لیکن وہ تو اس کے برعکس دعوٹی لے کر اٹھے ہیں اور اگر پھر بھی اپنے عمل کو حسین دیکھتے ہیں تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سوائے اس کے کہ ہم ان پر حسرتیں کریں۔ اس کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔ اور نہایت ہی غلیظ زبان استعمال کی گئی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اور بزرگان سلسلہ کے متعلق ، حضرت ام المومنین کے متعلق ، خواتین کے متعلق ۔ کوئی حیا کوئی شرم قریب تک نہیں پھٹکی تھی ان لوگوں کے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم نے بے عزتی کر دی، دیکھو گالیوں کے ذریعہ ہم نے ان کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ اس سوال کا جواب اس سے اگلی آیت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا تمہارے ہاتھ میں عزتیں کہاں سے آگئیں ، تمہارے ہاتھ میں تو اپنی عزتیں بھی نہیں ، جب چاہے خدا تمہیں ذلیل و رسوا کر سکتا ہے ۔ تم دنیا میں عزتیں بانٹنے والے کہاں سے نکلے ہو یا عزتیں چھینے والے کہاں سے نکلے ہو۔ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا عزت صرف خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور ساری عزتیں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ فرمایا صرف نیک کلام سے خدا تعالیٰ راضی ہو کر عزتیں نہیں بخش سکتا محض بلند بانگ دعاوی کسی کو رفعتیں عطا نہیں کر سکتے ۔ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ ہر پاک کلام اسی کی طرف بلند ہوتا ہے لیکن وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ نیک اعمال سے طاقت پا کر وہ بلند ہوتا ہے اس کے بغیر اڑ ہی نہیں سکتا ۔ وہ پتنگ جو کیسے ہی مہارت