خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 527

خطبات طاہر جلد ۵ 527 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء گا۔ امیر صاحب لکھتے ہیں کہ پتہ نہیں کس نیت اور جذبے کے ساتھ اس نے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ مدتوں سے مرا ہوا درخت دیکھتے دیکھتے ہرا ہونا شروع ہوا اور اس قدر پھل سے لد گیا کہ سارے چندوں کے بقائے اسی کے پھل سے پورے ہوئے اور پھر بھی اس کے لئے کچھ بچ گیا۔ نائیجریا سے سیف اللہ صاحب چیمہ تحریر فرماتے ہیں کہ گزشتہ مرتبہ جب میں آپ سے ملنے آیا میری بیوی بھی ساتھ تھی ۔ ہم نے ذکر کیا کہ ایک عرصے سے ہماری شادی ہوئی ہے اور کوئی اولاد 66 نہیں ۔ اس وقت آپ نے بے اختیار یہ فقرہ کہا کہ بشری بیٹی آئندہ جب آؤ تو بیٹا لے کر آنا “ وہ کہتے ہیں کہ الحمد للہ میں آپ کو یہ خوشخبری دے رہا ہوں کہ اب جب ہم آپ سے ملنے آئیں گے تو بیٹا لے کر آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ بیٹا عطا فرما چکا ہے۔ اسی طرح ایک غانین خاتون بھتی ہیں: میری اولاد پیدائش کے دو ہفتے کے اندراندرفوت ہو جاتی تھی۔ میں نے آپ کو دعا کے لئے خط لکھا اور مجھے یہ عجیب جواب ملا کہ بچے کا نام امتہ الحسی رکھنا جو بیٹی کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نشان دیکھ کر میں حیران رہ گئی کہ خدا نے مجھے بیٹی عطا فرمائی جس کا نام میں نے امتہ الحی رکھا اور ایک سال ہو چکا ہے وہ خدا کے فضل سے صحت مند اور ہشاش بشاش ہے۔ یہ جو دو واقعات میں نے آخر پر بیان کئے ہیں ان سے متعلق بھی میں جماعت کو ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بسا اوقات جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ اللہ نے اپنی امت کو خوشخبری دی کہ بسا اوقات ایسے بھی ہیں میری امت میں جن کے سرخاک آلودہ ہیں, جن کی کوئی بھی حیثیت نہیں لیکن لو اقسم على الله لا بره ( سنن ابی داود کتاب الدیات حدیث نمبر: ۳۹۷۹) اگر وہ خدا کی قسم کھا کر ایک بات کہہ دیں تو اللہ ان کے لئے ایسی غیرت رکھتا ہے کہ اس بات کو پورا کر دیتا ہے۔ صلى آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کا جو مقام دکھایا گیا آج میں ہی نہیں جماعت میں بکثر نے صلى الله ت ایسے لوگ ہیں جو آنحضرت اقدس محمد مصطفی میلے کی اس عظیم خوشخبری کو بارہا پورا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن انسانیت کا ایک مقام ہے جو عبدیت کا مقام ہے، اسے کسی قیمت پر بھی خدائی کے مقام میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ اور اپنے مقام انکسار سے ہرگز نہ ہٹیں ، نہ یہ کوشش کریں کہ مجھے اس مقام سے جس مقام کے سوا میرا اور کوئی مقام نہیں یعنی عبدیت کا مقام ، اس سے سرکانے کی کوشش کریں اور مجھ