خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 515 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 515

خطبات طاہر جلد ۵ 515 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۶ء اس لئے کہ ایک مولوی نے اپنی مخالفت کے نتیجہ میں دوسرے مولوی پر یہ الزام لگا دیا کہ اس نے گستاخی رسول کا کلمہ بولا تھا اور ایسا ملک جہاں سچائی عنقا ہو چکی ہو، جہاں سربراہ سے لے کر ادنی چپڑاسی تک سارے جھوٹ بولتے ہوں اور بے دھڑک بولتے ہوں اور اس میں حیا بھی محسوس نہ کرتے ہوں، جہاں نوے دن کے وعدے کئے جائیں اور نو سال گزرنے پر بھی کہیں ابھی کچھ سال باقی ہیں نوے دن پورے نہیں ہوئے ۔ وہاں عوام الناس کے جھوٹ کا کیا حال ہوگا ۔ وہاں عدالتوں میں کیا کارروائیاں ہوتی ہیں ؟ کیا یہ بات لوگوں کو معلوم نہیں ہے؟ کیا اہل پاکستان اس سے باخبر نہیں ہیں؟ کوئی دو جھوٹے شخص اکٹھے ہو کر کسی ایک شریف النفس انسان کے متعلق یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ اس نے گستاخی رسول کی تھی ۔ اب یہ شرعی عدالت کے اوپر منحصر ہے کہ یہ دیکھے کہ دونوں میں کس کا کس فرقے سے تعلق ہے قطع نظر اس کے کہ ان گواہوں کی کیا حیثیت ہے قطع نظر اس کے کہ وہ شخص بشدت احتجاج کرے صلى الله عروسه کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی محبت تو میرے رگ وریشہ میں پیوست ہے ، میری جان کا جزو ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر فیصلہ اس بات پر کیا جائے گا کہ الزام کس فرقے پر لگایا جا رہا ہے اور الزام لگانے والے کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور حج خود کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کی ہمدردیاں کس فرقے سے ہیں اور اس طرح ناموس رسول کے نام پر ہرگز بعید نہیں آنحضرت ما صلى الله علو سلم سے بے انتہا عشق رکھنے والے اور محبت کرنے والوں کو گستاخی رسول کے خنجر سے ذبح کیا جا رہا ہو ۔ اس سے زیادہ بدامنی کا تصور ممکن نہیں ہے کہ رحمتہ للعالمین کے نام پر دنیا میں ظلم کے چشمے جاری کر دئے جائیں ۔ سورج کے نام پر دنیا میں اندھیرے اتار دیئے جائیں۔ یہ ہونے والا ہے اس ملک صلى الله عروسه میں اور یہ ہو رہا ہے اس کے لئے بنیادیں قائم کی جارہی ہیں اور نام رکھا گیا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کی محبت سے مجبور ہو کر ہم یہ ایک قانون بنا رہے ہیں ۔ ایک اور پہلو سے بھی آپ دیکھیں تو حقیقی محبت کے تقاضے تو قربانی پیدا کرتے ہیں ۔ حقیقی محبت کے تقاضے ایک ایسی غیرت پیدا کرتے ہیں جس میں کمزور یا طاقتور کا فرق باقی نہیں رہتا پھر اگر کسی شخص میں کسی شخص کے لئے حقیقی محبت اور غیرت ہے اور اس کا مزاج ایسا ہے کہ وہ اس کی گستاخی یں کر سکتا۔ تو جب گستاخی ہو ، اس وقت وہ تھانے میں رپورٹ درج کروانے کے لئے نہیں بردانه