خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 502 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 502

خطبات طاہر جلد ۵ 502 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۶ء شروع کرو کہ آنحضرت کے مقابل پر جتنے بھی غیر مذاہب کے انبیاء موجود ہیں، مقابل پر ان معنوں میں کہ آج کل کی دنیا میں مقابل پر ہیں ورنہ حقیقت میں تو کوئی بھی نبی دوسرے نبی کے مقابل پر نہیں ہوا کرتا۔ مگر آج کے زمانہ میں دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں سچے مذاہب تو الگ رہے جن کو تم یقیناً جھوٹا سمجھتے ہو ان کے سربراہوں کی بھی عزت کی تعلیم دو ان کی ناموس کے متعلق قانون پاس کرو اس بناء پر کہ تمہیں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ اللہ سے سچی محبت ہے اور تم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ بنا پر کہ کہیں کوئی شخص کسی مذہب کے راہنما کا دل دکھائے اور اس کے نتیجہ میں وہ حضرت رسول اکرم یا اے کی گستاخی کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ یہ ہے قرآنی تعلیم ، یہ ہے اس کا عالمگیر حسن ۔ اس کی کوئی مثال دنیا میں کہیں نظر نہیں آسکتی۔ صلى الله آنحضرت ﷺ کی محبت کا دعوی اگر سچا ہے تو قرآنی اصول کے مطابق پہلے یہ قانون پاس ہونا چاہیئے کہ اس ملک میں ہم کسی مذہب کے راہنما کو بے عزت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس راہنما کو سچا سمجھتے ہیں ، خواہ وہ سچا ہو خواہ وہ جھوٹا ہو ، جھوٹے خداؤں سے بدتر وہ بہر حال نہیں ہو سکتا۔ زیادہ سے زیادہ اسے ایک جھوٹا خدا کہہ سکتے ہو۔ قرآنی تعلیم کے مطابق ہم ہرگز اس ملک میں اجازت نہیں دیں گے کہ کسی مذہب کے راہنما کسی مذہب کے سردار کسی مذہب کے بانی کی کسی رنگ میں بھی بے عزتی کی جائے کیونکہ اس کے نتیجہ میں یہ خدشہ ہے کہ ہمارے آقاو مولا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے خلاف جذبات مشتعل ہو جائیں اور کوئی گستاخی کا کلمہ منہ سے نکل جائے ۔ اگر فطرتا دیکھیں تب بھی یہی قانون ہے جو دراصل کام کر سکتا ہے اور محبت کے تقاضوں کو اگر کسی طرح کوئی قانون پورا کر سکتا ہے تو یہی قانون ہے جو پورا کر سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جس سے پیار ہو، جس سے محبت ہو انسان یہ تو نہیں چاہتا صرف کہ وہ اس کے خلاف منہ سے کچھ نہ بولے اور دل میں اس کو گالیاں دیتا رہے۔ دل کی گالیوں کو کیا کریں گے۔ جب تک ان موجبات اور محرکات کو دور نہ کریں جو دل میں اشتعال پیدا کرتے ہیں اور دلوں میں گالیاں بناتے ہیں۔ تو جس سے سچا عشق ہو اس کی خاطر انسان ہر وہ کام کرتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں اس محبوب کی دشمنی کم ہو جائے ۔ شریفانہ تہذیب کی حدود کے اندر آجائے ۔ جس کے بعد مخالفت گالی گلوچ پر منتج نہیں ہوا کرتی ۔ ایسی حیرت انگیز تعلیم ہے کہ اگر آج اسے دنیا اپنا لے تو مذہبی لحاظ سے ساری دنیا میں امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔