خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۵ 44 خطبه جمعه ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء نہیں مقابلے کے لئے اتنے تھوڑے، اتنے حقیر ہوتے ہیں کہ دشمن کے اسباب کے مقابل پر کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے ہیں فرمایا وہ تو مر جاتے جیتے جی لیکن نہیں اُن کے لئے ایک اور تقدیر خدا کی جاری ہوتی ہے اور وہ اُسکی مذہب کی تقدیر ہے جو اُس سے زندہ تعلق رکھتا ہے اُس کے لئے خدا قادر کے طور پر بھی جلوہ گر ہوتا ہے عام تقدیر کو مٹا کر ایک نئی تقدیر بناتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں : پھر فرماتے ہیں : ه نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا حصر دعوی ہے خدائی کا قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشان کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کرونگا میں یہ ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے کہ یہاں بولنے والا خدا منظر پر ابھر آتا ہے یعنی مخلوق ایک ایسے خدا کی واقف ہو جاتی ہے جو بولنے لگ گیا ہے۔ سائنس دانوں کا خدا تو وہ گونگا خدا ہے کہ جس کی تقدیر جاری تو ہے لیکن اس تقدیر میں نہ رد و بدل کرنے کے اہل ہیں نہ انکے لئے وہ تقدیر یلتی ہے کسی طرح ۔ لازم ہے اُن پر کہ سو فیصدی بھی اس تقدیر کی پیروی کریں، غلامی اختیار کریں اور پھر اس سے جو فائدہ اٹھانا ہے اُس سے اٹھا لیں لیکن ایک زندہ فعال خدا سے وہ تقدیر اُن کا تعلق قائم نہیں کرتی ۔ اسی لئے اکثر سائنس دان جس خدا تک پہنچے ہیں وہ ایک تصوراتی خدا ہے جس کا ہونا وہ تسلیم کر لیتے ہیں لیکن انسان کے ساتھ ایک زندہ تعلق والا خدا اُن پر کبھی ظاہر نہیں ہوتا نہ وہ اُن کا وجود تسلیم کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ہو گا قدرت کاملہ میں ہمیں نظر آتا ہے لیکن ایسا وجود جو انسانی معاملات میں دلچسپی لے، اُن میں دخل دے، اُن سے پیار کرے، اُن کو سزادے ایسا خدا ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس لئے اس سے اُن کا تعلق قائم ہی نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کی قدرت کو سمجھتے نہیں ہیں لیکن جب وہ قدرت کاملہ پر یقین رکھنے لگ جاتے ہیں انسان ۔ تب خدا اُن پر ظاہر ہوتا ہے اور اُن سے بولتا ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ