خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 487

خطبات طاہر جلد ۵ 487 خطبہ جمعہ ا ار جولائی ۱۹۸۶ء اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں ( خطبہ جمعہ فرموده ا ار جولائی ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی : أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَفِرِينَ أَمْثَالُهَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَ أَنَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ ۔ اور پھر فرمایا : صلى الله (محمد : ۱۱-۱۲) سورة محمد (ﷺ) کی جن دو آیات کی میں نے تلاوت کی ہے یہ آیات فتح مکہ سے پہلے کی ہیں اور مدنی ہیں۔ اس سورۃ کی سوائے ایک آیت کے جو اس وقت نازل ہوئی جب حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت آخری بار مکہ سے جدا ہو رہے تھے اور آپ کی آنکھوں سے اس وقت آنسو رواں تھے اس وقت نازل ہوئی، باقی تمام آیات سورة محمد کی مدنی دور میں مختلف وقتوں میں پھیلی پڑی ہیں لیکن جہاں تک ان کے مضمون کا تعلق ہے وہ مضمون مکی دور سے زیادہ تعلق رکھتا ہے جبکہ حضرت اقدس محمد مصطفی یکہ و تنہا تھے اور کوئی بھی آپ کا مددگار نہیں تھا۔ اس کے مقابل پر آپ کے دشمنوں کے سے بہت سے مددگار تھے اور صرف مکی دور سے ہی یہ آیات تعلق نہیں رکھتیں بلکہ آغاز نبوت سے جب سے دنیا میں نبوت کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے لے کر آنحضرت ﷺ کے دور تک کے جتنے انبیاء ہیں صلى الله علوس ان سب کے واقعات کا ان آیات میں حوالہ دیا گیا ہے۔ جوان پرگزری، جس حال میں خدا نے ان کو پایا