خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 476
خطبات طاہر جلد ۵ 476 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء لئے ظن رکھیں بے انتہا فضل کرنے والا خدا ہے، کام کریں، محنت کریں آپ کا صرف اتنا کام ہے، دعا کے نے بزرگوں کو خط لکھیں اور اس کے بعد تو کل کریں۔ تقریباً دو تین ہفتے پہلے کی بات ہے کہ ان کا سخت گھبرایا ہوا ایک اور خط آگیا کہ آپ نے کہا دعا کرو اور توکل رکھو بزرگوں کو خط لکھو میں سب کام کر بیٹھا ہوں اور صرف تھوڑے سے دن رہ گئے ہیں اور ابھی ستر لاکھ روپے کی کمی رہ گئی ہے (میں نے خط نکلوانے کی کوشش کی ہے مجھے مل نہیں سکا ابھی مل جائے گا چند دن تک لیکن ستر نہیں تو بہت بڑی رقم تھی بہر حال پورا صحیح مجھے یاد نہیں لیکن جو مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ تقریبا ستر لاکھ انھوں نے بتایا کہ کمی ہے اور سخت گھبراہٹ ہے اس لئے ۔ چنانچہ ان کو میں نے یہ خط لکھا کہ آپ کو میں نے پہلے بھی لکھا تھا آپ نے اپنا کام کر لیا ہے بالکل گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کے لئے چند دن رہ گئے ہیں خدا کی تقدیر کے لئے تو چند دن کا کوئی سوال نہیں ہے۔ وہ آزاد ہے وہ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ہے، وہ جانتا ہے کہ کہاں سے اس نے عطا کب کرنا ہے اور بڑی وسعتوں والا خدا ہے چنانچہ کل رات فون کے ذریعے اور آج با قاعدہ خط بھی مل گیا یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ بجٹ جس کے پورا ہونے میں ان کو شدید مشکلات نظر آرہی تھیں وہ دو کروڑ پندرہ لاکھ روپے کا بجٹ تھا جو جماعت نے ابتداء جو پاس کیا تھا ۔ ناظر صاحب بیت المال کو گھبراہٹ یہ تھی کہ دو کروڑ پندرہ لاکھ بھی زیادہ تھا اس پر دوران سال کارکنان کی تنخواہیں بڑھانے کے نتیجہ میں دس لاکھ کا مزید اضافہ کر دیا گیا تو دو پندرہ کی بجائے وہ دو پچیس بن گیا اور یہ وہ کہہ رہے تھے کہ اس بجٹ کا پورا ہونا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ، چند دن رہ گئے ہیں اور لکھوکھہا رو پیدا ایسا ہے جو ابھی قابل ادا ہے۔ ایسا ادانے آج ناظر صاحب بیت المال کا اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا خط ناظر صاحب اعلیٰ نے بھجوایا ہے جس میں لکھا ہے کہ جون کے آخر تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو کروڑ پینتالیس لاکھ چوبیس ہزار روپے کی وصولی ہو چکی ہے اور ہمیں لاکھ روپیہ اس بڑھے ہوئے بجٹ سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمادیا ہے اور انہی چند دنوں میں عطا فر ما دیا ہے جن دنوں میں وہ کہتے تھے کہ اب ممکن ہی نظر نہیں آرہا کہ سب کو لکھ دیا، بزرگوں کو بھی لکھا ، سب کوششیں کیں لیکن افسوس کہ کوئی ہماری دوا کارگر ثابت نہ ہوسکی ۔ ٹھیک ہے دوا تو کارگر نہیں ہوا کرتی لیکن دعا ئیں تو ضرور کارگر ہو جایا کرتی ہیں اور وہ جو دعاؤں کو قبول کرنے والا خدا ہے وہ کبھی بھی مومن کی توقعات کو رد نہیں فرمایا کرتا بلکہ توقعات سے بڑھ کر عطا کیا کرتا ہے