خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 457

خطبات طاہر جلد ۵ 457 خطبه جمعه ۲۷ جون ۱۹۸۶ء کا وہی نگران ہو اور وہی محافظ ہو تو اچانک یہ کمزور جماعت کا حفاظتی نظام حیرت انگیز حفاظتی نظام میں تبدیل ہو جائے گا۔ اور کسی بادشادہ کو ایسا حفاظتی نظام نصیب نہیں ہو سکتا جیسا اس جماعت کو حفاظتی نظام نصیب ہو چکا ہے اور اگر وہ بیدار مغزی ۔ ہے اور اگر وہ بیدار مغزی سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو مزید صیقل : ذ مزید صیقل ہوسکتا ہے۔ مقامی دوستوں کی ذمہ داریاں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ بھی ہیں اور بھی ہیں لیکن میرا گزشتہ سال کا تجربہ یہ ہے کہ اتنے شوق اور محبت سے پہلے ہی جماعت اپنی توفیق کی انتہائی حدوں تک ذمہ داریوں کو ادا کرتی ہے کہ مزید اور ذمہ داریاں گنوانے کی سردست ضرورت نہیں سمجھتا۔ جو اہم چند باتیں تھیں وہ یاددہانی کے طور پر میں نے پیش کر دیں۔ اب میں آنے والوں کی کچھ ذمہ داریاں بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ آنے والے مہمانوں میں سے بہت سے پچھلے سال بھی غفلت کا شکار ہوئے اس دفعہ بھی اسی طرح غفلت سے کام لے رہے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ انگلستان کی انتظامیہ نے کئی ماہ پہلے سے تمام دنیا کی جماعتوں کو لکھ کر مطلع کیا ہے کہ اپنی یہاں رہائش کے انتظام کے سلسلہ میں کتنے دن آپ نے قیام کرنا ہے۔ کہاں ٹھہرنے کا ارادہ ہے، ہمیں اچھی طرح مطلع کریں اور اگر ہماری خدمات کی ضرورت ہے تو ہمیں پہلے بتائیں۔ لیکن سوائے ایک دو گنتی کے آدمیوں کے نہ جماعتوں کی طرف سے اجتماعی طور پر ان خطوں کا جواب دیا گیا نہ انفرادی طور پر اس قسم کا رابطہ قائم کیا گیا ۔ یا تو امراء جماعت ان چٹھیوں کو پڑھ کر اپنے درازوں میں بند کر دیتے ہیں اور جماعت میں اعلان نہیں کرتے یا عادت ہے ہمارے اکثر دوستوں میں خصوصاً مشرق میں بسنے والوں کی کہ وہ کہتے کہ دیکھا جائے گا جو ہو گا ٹھیک ہوگا۔ موقع پر پہنچیں گے کہیں نہ کہیں تو جگہ مل جائے گی اور کہیں نہ کہیں جگہ ملنے کی توقع رکھ کر آنے والے پھر اتنی مصیبت میں پڑتے ہیں یہاں آئے کہ بعض دفعہ چار چار پانچ پانچ گھنٹے ائر پورٹ پر کھڑے ہیں کچھ سمجھ نہیں آتی جانا کہاں ہے اور اپنے قصور کو پھر میز بانوں کے سر پر تھوپتے ہیں۔ پچھلے سال ایک بڑے ذمہ دار دوست نے آپ اطلاع نہیں دی کسی کو بتایا نہیں میں کون ہوں کب آ رہا ہوں اور مجھ سے آکر شکوہ کیا کہ جی میں کمزور آدمی ہوں امیر جماعت اور میں چار گھنٹے یا پانچ گھنٹے وہاں ائر پورٹ پر خراب ہوتا رہا ہوں کسی نے نہیں پوچھا۔ پتہ لگا کہ اچھا بھلا پوچھا تھا وہاں جو دوست گئے تھے انہوں نے پوچھا ان کو کہ آپ کون ہیں؟ ہمارے ساتھ چلیں لیکن چونکہ تعارف نہیں