خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد ۵ 40 خطبه جمعه ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء ہے کہ اُسے اختیار دے دیا گیا ہے کہ چاہو تو کرو۔ چاہو تو نہ کر ولیکن ساتھ یہ بتا دیا گیا ہے کہ بالآخر تم خدا کی طرف لوٹو گے۔ بالآخر تمہیں لازماً وہاں پہنچ کر جواب دہی کرنی ہو گی اور تم بچ نہیں سکتے ۔ تو غالب تو ہے وہ تقدیر کہ آخر انسان اُس سے پکڑا جائے گا لیکن وقتی طور پر مہلت دیتی ہے جیسے آپ کسی چھوٹے سے بچے کو کچھ دیر کے لئے آگے بھاگنے دیتے ہیں اور بظاہر اختیار دے دیتے ہیں کہ وہ آپ سے آگے نکل جائے لیکن جانتے ہیں کہ کب اور کس وقت جب آپ چاہیں گے جب آپ فیصلہ کر لیں گے اُسے پکڑ لیں گے۔ تو ایسی تقدیر کا ذکر جہاں قرآن کریم میں ملتا ہے وہاں لفظ قادر کا استعمال ہوتا ہے اور اس کا تخلیق نو سے تعلق ہے۔ چونکہ قرآن کریم انسان کی مذہبی تخلیق کو تخلیق نو قرار دیتا ہے، خلق آخر قرار دیتا ہے۔ اس لئے خلق آخر کے مضمون کا خدا تعالیٰ کے قادر ہونے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ مقتدر کی صفت اسی مضمون میں آگے بڑھتی ہے جب لوگ بزور یا جبراً خدا کی اس تقدیر کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ مقتدر بن کے ان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور اپنے پیاروں کی حفاظت فرماتا ہے اور ان کے مخالفین کو مٹا دیتا ہے۔ فرمایا: وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ كَذَّبُوا بِايْتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْتُهُمْ أَخْذَ عَزِيزِ مُّقْتَدِرٍ ( القمر : ۴۳۴۲) دیکھو فرعون بھی اس سے پہلے آیا تھا اور گزرا تھا وَ لَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ اور فرعون کی قوم کے سامنے ، اس کے پیچھے چلنے والوں کے سامنے کئی قسم کے انذاری نشان پیش کئے گئے، كَذَّبُوا بایتِنَا انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا كُلَّهَا کلیة - فَأَخَذْتُهُمْ أَخْذَ عَزِيزِ مُقْتَدِرٍ ہم نے اُن کو اُس طرح پکڑا جس طرح ایک عزیز غالب طاقت والی ہستی جو مقتدر ہو وہ پکڑا کرتی ہے۔ جب قدرت گھیرا ڈال لیتی ہے، جب مخالف کے مقابل پر جوش کے ساتھ جلوہ دکھاتی ہے اُس وقت خدا تعالیٰ کی صفت قدیر یا قادر کے ذکر کی بجائے مقتدر کی صفت بیان فرمائی جاتی ہے۔ متکلف جس طرح تکلیف کر کے کام کرتا ہے غیر معمولی توجہ کے ساتھ یہ کام کرتا ہے، کوشش کے ساتھ کام کرتا ہے