خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد ۵ 448 خطبه جمعه ۲۰ جون ۱۹۸۶ء کبھی نہ ختم ہونے والی ہیں اس لئے ایک لمحہ کے لئے بھی حوصلہ نہیں ہارنا ۔ یہ نہیں کہ ہارنا ۔ یہ نہیں کہ میں کسی تھکاوٹ کے آثار دیکھ رہا ہوں ۔ میں تو دن بدن پہلے سے زیادہ مضبوط تر ہونے والے عزم کو دیکھتا چلا جا رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جماعت میں ایک حیرت انگیز انقلابی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے ، نئی مضبوطی پیدا ہو رہی ہے ، نئی توانائی آرہی ہے لیکن اس کے باوجود میرا کام ہے کہ وقتا فوقتا آپ کو پھر بھی یہ یاد دلاتا رہوں کہ صبر کے ساتھ قائم رہنا ہے اس راہ پر ۔ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے پائے ثبات میں لغزش نہیں آنے دینی ۔ اپنے عزم کے سر کو جھکنے نہیں دینا، اپنی ہمتوں کو کوتاہ نہیں ہونے دینا ۔ نہ تھکنا ۔ نہ تھکنا ہے نہ ماندے ہونا ہے جو کچھ دنیا کے بس میں ہے وہ کرتی چلی جائے۔ جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شاہراہ اسلام کی ترقی کی راہ پر ہمیشہ ہمیش آگے بڑھتی چلی جائے گی اور آگے ہی بڑھتی چلی جائے گی۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے بعد کچھ مرحومین کی نماز جنازہ ہوگی ۔ ان میں سب سے پہلے سرفہرست تو یہی ہماری عزیزہ بہن رخسانہ صاحبہ ہیں۔ ان کے بعد مکرم چوہدری سردار محمد صاحب فیصل آباد یہ جماعت کے مخلص کارکن ڈاکٹر ولی محمد صاحب ساغر کے والد تھے ۔ پھر مکرمہ نور بی بی صاحبہ یہ مکرم چوہدری رحمت اللہ صاحب مرحوم آف چک نمبر 275 کرتار پور کی اہلیہ تھیں اور موصیہ تھیں۔ پھر مکر مہ امینہ طاہر صاحبہ یہ مکرم مبشر احمد صاحب طاہر آف جرمنی کی اہلیہ تھیں، حال ہی میں جوانی میں وفات پاگئی ہیں ۔ ان کے سر میں کوئی Tumer تھا جس کا آپریشن ہوا اور آپریشن کے بعد ساتھ ہی دل کا حملہ بھی ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں خاص طور پر مبشر کا بہت ہی درد کا فون آیا تھا۔ خاص طور پر دعا میں ان کو یاد رکھیں ۔ مکرمہ اقبال اختر صاحبہ ہیں یہ ہمارے پرانے معروف دوست کیپٹن عبد الحئی صاحب آف کینیڈا کی اہلیہ تھیں۔ مکر مہ رخسانہ صاحبہ کا تو پہلے اعلان کر چکا ہوں ۔ان سب کی نماز جنازہ غائب نماز جمعہ کے معاً بعد ہوگی ۔