خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 442
خطبات طاہر جلد ۵ 442 خطبه جمعه ۲۰ جون ۱۹۸۶ء میرے ذہن میں اس وقت دوباتیں تھیں اول یہ کہ اس تحفہ کو جو جماعت نے بڑی محبت سے ان سب اللہ کی راہ میں قربانی کرنے والوں کے لئے پیش کیا ہے کسی طریق سے سب تک پہنچایا جائے ، سارے اس میں شامل ہو جائیں ۔ دوسرے یہ تھا کس طریق پر یہ کام کیا جائے ، اس کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پھر رہنمائی فرمائی کہ اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ہے ان کو یہ تحفہ پہنچانے کا کہ تمام دنیا میں سو بڑی زبانوں میں جو قرآن کریم کے تراجم پیش کئے جائیں وہ ان کی طرف سے کل عالم کی اقوام کے سامنے تحفہ ہو اور یہ ایک ایسا تحفہ ہوگا جو ہمیشہ ہمیش کے لئے جاری و ساری رہے گا۔ اس سے بہتر تحفہ نہ یہ دنیا کو پیش کر سکتے ہیں اور نہ ہم ان کو پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ مراد نہیں تھی کہ وہ دوست جو اتنے ضرورت مند ہیں اور بہت سے ایسے خاندان ہیں جن کے اور ذرائع معاش نہیں رہے۔ جماعت پر ذمہ داری ہے کہ ان کی ہر قسم کی ضرورتیں پوری کرے ان کو اس فنڈ کے فائدے سے محروم کر دیا جائے گا یہ ہرگز مراد نہیں تھی۔ ان کو تو جماعت پہلے ہی ضرورتیں مہیا کر رہی تھی۔ اور جب سے اس فنڈ کی تحریک ہوئی ہے میں نے ہدایت کی ہے کہ اسی فنڈ میں سے خرچ کیا جائے اور یہ بھی خاطر خواہ رقم ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو قربانی کا ایک عظیم جذ بہ عطا کیا ہے۔ مسلسل بار بار کی تحریکات کے باوجود دنیا یہ بجھتی ہوگی کہ جماعت تھک گئی ہے اب اور نئی تحریک کے اوپر کہتے ہوں گے کہ اب کہاں تک ہم سے مانگتے چلے جاؤ گے مگر میں جانتا ہوں کہ کس طرح جماعت حیرت انگیز طور پر بظاہر خالی جیبوں میں سے اور پھر نکالتی چلی جاتی ہے ۔ وہ اپنی جیبیں خالی کرتی چلی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ جیبیں بھرنے کے سامان پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔ چنانچہ بلال فنڈ میں بھی اتنی رقم ابھی تک پیش ہو چکی ہے کہ موجودہ ضروریات سے وہ کہیں زیادہ ہے۔اس لئے اس زائد از ضرورت کو بھی کسی جگہ استعمال کرنا تھا۔ بعض دوستوں کا یہ خیال تھا کہ ٹرسٹ قائم کر دیا جائے اور آئندہ بھی مختلف زمانوں میں مختلف ملکوں میں ضرورتیں پیش آتی رہیں گے اس ٹرسٹ سے ان راہ مولی میں دکھ اٹھانے والوں کی ضروریات پوری کی جائیں اور وقتی طور پر میں بھی اس تجویز سے متاثر ہوا اور دماغ میں یہ خیال آیا بلکہ ربوہ میں میں نے ہدایت بھی دے دی لیکن اس کے باوجود اس معاملہ میں طبیعت میں بہت بے چینی پیدا ہوئی اور طبیعت نے اس تجویز کے خلاف سخت رد عمل دکھایا۔ غالب تو کہتا ہے کہ