خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 437 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 437

خطبات طاہر جلد ۵ 437 خطبه جمعه ۲۰ جون ۱۹۸۶ء 66 مظلوم عورت کو قتل کی دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر تم احمدی مسجد میں جا کر نمازیں پڑھو گی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا ۔ بہر حال یہی آداب ہیں اس دور کے ان مجاہدین کے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے دشمنوں سے حق کی مخالفت کے گر سیکھے ہیں۔ وہ سارا بنیادی کردار د ہرایا جا رہا ہے۔ بہر حال عید کے روز کا واقعہ ہے کہ طارق اور ان کی بیگم رخسانہ جب عید کی نماز پڑھ کر واپس آئے ۔ طارق جب غسل خانے گئے تو پیچھے بچی کو اکیلا پا کر اس نے پھر نہایت بدکلامی سے کام لیا اور کہا میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ تم نے احمدیوں کی مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جانا ۔ اس نے کہا تم کون ہوتے ہو مجھے منع کرنے والے۔ عبادت کا معاملہ ہے۔ میں مذہب کے معاملہ میں آزاد ہوں جو چاہو کرو میں بہر حال اپنے اس مذہبی حق کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑوں گی ۔ جہاں جی چاہے گا نماز پڑھوں گی جہاں چاہوں گی عبادت کروں گی تمہیں میرے معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ۔ چنانچہ اس پر اس نے پستول نکال کرو ہیں فائر کئے دو گولیاں تو سینہ چھید کر نکل گئیں اور ایک ٹانگ پر لگی ۔ بہر حال تھوڑی دیر کے اندر ہی بچی نے دم توڑ دیا۔ خاوند جب باہر آئے تو وہ یہ نظارہ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اور دو دن تک بے ہوش رہے ۔ چونکہ ان کی والدہ غیر احمدی ہے اور آدھے بھائی غیر احمدی ہیں اس لئے انہوں نے پولیس میں خاندانی اندرونی معاملہ درج اس طرح کرایا کہ کسی کو پکڑ نہ ہو سکے اور کہا یہ کہ گویا یہ کھیل رہے تھے پستول سے کہ اتفاق سے چل گیا لیکن ساتھ ہی بشارت آزاد علاقہ میں روپوش ہو گیا ۔ جب مرزا خاں صاحب کو اطلاع ملی تو انہوں نے پولیس کو تاریں دیں اور ابھی تک یہ معاملہ لڑکا ہوا ہے کسی کروٹ بیٹھا نہیں ۔ انہوں نے تاریں دیں اور یہ ذکر کیا کہ میرے پاس بچی کے خطوط موجود ہیں جس میں بچی نے لکھا ہے کہ مجھے شدید روحانی اذیت دے رہا ہے یہ شخص اور سخت گندی گالیاں دے رہا ہے سلسلہ کے بزرگوں کو اور قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے اس کے بعد اس کا کیا جواز ہے کہ اس مقدمہ کو ایک اتفاقی حادثہ کے طور پر درج کیا جائے۔ بہر حال جو بھی اس کا نتیجہ نکلتا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ جب خدا کے نام پر کوئی شہادت ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں دنیا والے اس قاتل کو پکڑیں یا نہ پکڑیں ، دنیا کا قانون اس پر جاری ہو یا نہ ہو امر واقعہ یہ ہے کہ یہ معاملہ خدا کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے اور اس وجہ سے رشتہ داروں اور عزیزوں کو بے چین ہونے کی ضرورت نہیں کہ وہ قاتل آزاد پھر رہا ہے۔ تقریباً دس شہید ہو چکے ہیں سندھ میں