خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 423

خطبات طاہر جلد ۵ 423 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء صلى الله عدالت میں جب ایک احمدی نوجوان کو پیش کیا گیا نوجوان کو جس کا جرم یہ تھا کہ اس نے کلمہ طیبہ کا بیج لگایا ہوا تھا اور لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا ورد کر رہا تھا اور بر سر عام آنحضرت ﷺ پر درود بھیج رہا تھا اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کر رہا تھا۔ اس پر اتنا جوش آیا علماء کو، اتنا غیرت سے کٹ کرے کہ انہوں نے زبر دستی پکڑ کر مارتے کو ٹتے پولیس کے سامنے پیش کیا اور پھر پولیس نے جو ظلم کر ۔ کرنے تھے وہ کئے۔ پھر کچھ دیر تک وہ حوالات میں بند رہے ( ہمارے فاروقی صاحب ہیں یہاں آڈیٹر جماعت کے ان کے چھوٹے بھائی کا واقعہ ہے۔ ان کے ساتھ اور بھی تھے نو جوان لے ) اور پھر اس سب ظلم وستم کے بعد ان کو قید میں رکھا گیا ۔ جب ضمانت ہوئی تو اب مقدمہ چل رہا ہے۔ یہ ایک ملک ہے دنیا میں واحد اُس زمانہ کے مکہ کو چھوڑ کر جس کا میں ذکر کر چکا ہوں ۔ چودہ سو سال بعد یہ پھر وجود میں آیا ہے ایک ملک ہے جہاں کلمہ پڑھنا سب سے زیادہ شدید جرم بن چکا ہے جس کی ضمانت نہیں ہو سکتی ۔ اگر کوئی مجسٹریٹ ضمانت دے ، بیچارے دے دیتے ہیں کیونکہ عوام الناس کو کلمہ سے محبت ہے ابھی تک ۔ وہ مولوی کی یہ دلیل سمجھ ہی نہیں سکتے کہ کوئی کلمہ پڑھے تو اس پر پیش آجائے اس لئے جو ضمانت دیتا ہے وہ اپنے مستقبل کے متعلق خطرے مول لے کر ضمانت دیتا ہے۔ اس کو پتہ ہے کہ اگر یہ Regime ( حکومت ) باقی رہی تو اب اس کی ترقیات بند لیکن قانون اجازت نہیں دیتا کہ وہ ضمانت دے سکے۔ بہر حال ان کی ضمانتیں کسی شریف النفس انسان نے قبول کر لیں۔ دیں بھی شریف النفس نے اور قبول بھی شریف النفس نے کیں ۔ تو مقدمہ جاری ہے۔ اس مقدمہ میں جب مولانا تاج محمد صاحب ناظم اعلی مجلس تحفظ ختم نبوت سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس سوال کے جواب میں یہ فرمایا : یہ درست ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو آدمی نماز پڑھتا تھا ، اذان دیتا تھا یا کلمہ پڑھتا تھا اس کے ساتھ مشرک یہی سلوک کرتے تھے جواب ہم احمدیوں سے کر رہے ہیں۔ عدالتی بیان ہے سر بمہر مجسٹریٹ کی اوپر تصدیق موجود ہے عدالت کی مہر موجود ہے۔ یہ ہمارے پاس پڑا ہوا ہے ۔ عقلوں پر مہر لگی ہوئی ہے، اس بیان پر نہیں، یعنی کسی قدر لے نوٹ: دراصل مذکورہ واقعہ کوئٹہ کے تین مربیان کے خلاف قائم کلمہ کیس میں پیش آیا جس میں مولوی تاج محمد نے یہ بیان دیا ۔ اس مقدمہ کا ذکر کتاب FIR کے صفحہ : ۹۰۶ پر موجود ہے۔ فاروقی صاحب کا نام سہواً بیان ہو گیا ہے۔