خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 421
خطبات طاہر جلد ۵ 421 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء چونکہ جمہوریت نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ تمہارا اسلام سے تعلق نہیں اس لئے اسلام سے تعلق کاٹ لو تو جمہوریت کو انہوں نے اپنا خدا قرار دے دیا اور اسی اصول کے تابع اب ان پر لازم ہو گیا اگر یہ ہندوستان میں بستے ہوں اور اگر ہندوستان کی بھاری اکثریت یہ فیصلہ کر لے کہ یہاں کے مسلمان کہلانے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس لئے اب ان کو کلمہ سے انحراف کر لینا چاہئے اور اپنے قبلے بدل لینے چاہئیں، اسلامی شعائر سے تعلق منقطع کر لینے چاہئیں تو یہ علماء جو آج ہمیں یہ کہ رہے ہیں ان کا حق نہیں ہوگا کہ یہ ہندوستان کی حکومت کی اس بات کا انکار کر سکیں ۔ ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمان تو شائد اس بات پر جان دینے کے لئے تیار ہو جائیں اور غیرت کا مظاہرہ کریں اور مذہبی آزادی کا علم بند کریں اور ہندوستان کی حکومت کو کہیں کہ جو چاہو کر گز رو ہم اس کلمہ سے تعلق نہیں توڑیں گے۔ لیکن یہ پاکستان میں آواز بلند کرنے والے علماء چونکہ ایک اصول کو تسلیم کر چکے ہیں اس لئے ان کا حق اب انحراف کا باقی نہیں رہا۔ دنیا کی کسی حکومت میں بھی اگر یہ جا کے بسیں یا ان کے ماننے والے جاکے بسیں اور وہ حکومت وہی ظالمانہ فیصلہ کرے جو پاکستان کی حکومت نے احمدیوں کے خلاف کیا ہے تو اپنے اس پیش کردہ مسلمے کے لحاظ سے یہ قابو آ جاتے ہیں۔ ان کے لئے انحراف کی گنجائش نہیں رہتی ۔ ان کو وہ حکومت جواب دے سکتی ہے کہ تمہارے پاس انکار کی کیا گنجائش ہے؟ تم خود احمدیوں کو یہ بات کہہ چکے ہو کہ چونکہ ایک ملک کی اکثریت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمہارا اسلام سے تعلق نہیں ہے اس لئے تم اسلام سے تعلق توڑ لو۔ لہذا ہم نے بھی تو یہی بات کی ہے۔ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ ہم اکثریت میں ہیں ہمارا جمہوری اکثریتی فیصلہ یہ ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو تم اسلام سے اپنا تعلق کاٹ لو، تو کاٹ لو تعلق ۔ اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ ایک اور بات جو اس کے اندر مخفی ہے اور نہایت ہی بھیانک اور مکروہ ہے وہ یہ ہے کہ کلمہ سے تعلق کاٹنے کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہتے ہیں تم کلمہ سے تعلق کاٹ لو۔ اس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ تم کلمہ کی نمائش نہ کرو۔ اگر وہ یہ کہیں کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ تمہارے دل میں تو کلمہ ہے لیکن اس کی نمائش نہ کرو تو ویسے ہی بے معنی بات بن جاتی ہے۔ اس لئے یہ مفروضہ بھی ان کو ساتھ ہی بنانا پڑتا ہے کہ دلوں میں تو ہم بیٹھے ہوئے ہیں خدا کہاں ہے وہاں؟ دلوں میں تو علماء ہیں اور دلوں میں بیٹھے ہ: ہوئے علماء نے بتایا ہے ساری دنیا کو اور ہر احمدی کے دل میں ایک عالم بیٹھا ہوا ہے۔ وہ بتاتا