خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 394

خطبات طاہر جلد ۵ 394 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء رہ جائے گا ، اکثر فوائد سے محروم رہ جائے گا ۔ اس لئے اپنے گھروں کو بقیہ دن جتنے بھی باقی ہیں ان کو آداب کی فیکٹریاں بنا دو۔ اسلامی آداب اور اسلامی اخلاق جو جو کمزوریاں عام حالات میں بچوں میں پائی جاتی ہیں ان کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہو اور روزہ ہو اور روزہ کا واسطہ دے کر آنحضرت علی دے کر آنحضرت ﷺ کے ارشادات صلى الله بتا بتا کر بچوں کو سمجھاؤ کہ تم پہلے زبان سے ایسی بے احتیاطی کر لیا کرتے تھے اب روزہ آگیا ہے اب بالکل نہیں کرنی۔ اور اسی طرح دیگر امور میں بھی تلاوت کی عادت ڈالنا ، ذکر الہی کی عادت ڈالنا ، دعاؤں کی عادت ڈالنا ، حسن سلوک کی عادت ڈالنا ، حقوق کی ادائیگی کی عادت ڈالنا، زبان کو جھوٹ سے کلیہ پاک کرنے کی عادت ڈالنا ، صاف اور سچی بات کی عادت ڈالنا ، قول سدید کی عادت ڈالنا ، یہ سارے مواقع ہیں روزہ کے لئے۔ صلى الله عروسه پس جب آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جہنم کے سارے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں تو ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جنت کے سارے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ تو صرف منفی پہلو نہیں رکھنا بلکہ اس مثبت پہلو پر بھی نظر رکھیں ۔ اور یہ دروازے کھولیں گے تو کھلیں گے۔ اگر آپ نے اپنے حواس خمسہ میں سے ہر ایک کے لئے اس عرصہ میں نیکی کے دروازے نہ کھولے تو جہنم کے دروازے تو بند کر رہے ہوں گے لیکن بے مقصد اس کے بدلے کوئی نیکی کا دروازہ نہیں کھول رہے ہوں گے۔ پس مراد یہ ہے کہ ہر بدری کے بدلہ ایک خوبی پیدا کرو۔ ہر بدصورتی کے بدلہ ایک حسن پیدا کرو اور تمہیں (۳۰) دن مسلسل اس جدو جہد میں گزاردو کہ تمہاری بدیاں چھٹ کر پیچھے رہ جائیں اور تمہاری نیکیاں رمضان کی برکت سے بڑھتے بڑھتے نمایاں ہو کر غیر معمولی چمک کے ساتھ آگے بڑھیں اور ہر رمضان جو گزرتا ہے وہ پہلے سے بہتر حالت میں تمہیں پائے۔ یہ مقصد ہے روزے کا اور جماعت احمد یہ کو اس طرف خصوصیت کے ساتھ اب توجہ کرنی چاہئے بلکہ وقت ہے کہ اس کے متعلق جہاد شروع کیا جائے ، عالمی پیمانے پر جس طرح عبادت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم باقی سب کو غیر معمولی طور پیچھے چھوڑ گئے ہیں اسی طرح روزہ کے میدان میں بھی انشاء اللہ یہ عہد کر کے اٹھیں کہ ہم نے لازماً باقی سب دنیا کے مسلمان کہلانے والے ہوں یا دوسرے ہوں سب کو پیچھے چھوڑ دینا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا روزوں کی طرف جورجحان تھا وہ آپ کے الفاظ میں