خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 384

خطبات طاہر جلد ۵ سے بھی بڑھایا جائے ۔ 384 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء گزشتہ چند دن پہلے ایک صاحب نے میری توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ جماعت احمد یہ میں جب لفظ عبادت بولا جاتا ہے تو ذہن معاً نمازوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور و ہیں ٹھہر جاتا ہے اور نمازوں سے آگے بڑھ کر جو عبادت کا مفہوم ہے اس کی طرف عموماً ذہن منتقل نہیں ہوتے ۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ ان خطبات کے نتیجہ میں ، اللہ کے فضل کے ساتھ کہنا چاہئے ، بکثرت لوگوں کی توجہ یعنی ان احمدی دوستوں کی توجہ یعنی جو پہلے نمازوں میں غافل تھے، نمازوں کی طرف ہوگئی ہے اور جو نمازیں ادا کرتے تھے ان کا معیار بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلند تر ہوا ہے لیکن روزوں کے لحاظ سے جماعت معیار سے ابھی تک بہت گری ہوئی ہے اور توجہ بھی پوری نہیں ہوئی اور کوئی ایسی غیر معمولی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی جس سے ہم اندازہ کر سکیں کہ وہ آپ کے مفہوم کو پوری طرح سمجھ رہے ہیں اور عبادت میں روزوں کو بھی داخل کر رہے ہیں۔ چونکہ اس سے پہلے رمضان کا مہینہ نہیں تھا لئے اس تھی۔ کہ ہے۔ اس لئے اس غلطی کی نشاندہی کی ہی نہیں جاسکتی تھی ۔ اب جب کہ رمضان شریف کا مہینہ آیا ہے تو لکھنے والے نے محسوس کیا کہ اس طرف ابھی نمایاں کمی ہے اور میں نے بھی اپنے عمومی تجربہ پر نگاہ ڈال کر دیکھا تو یہ ان کا توجہ دلانا بالکل برحق تھا۔ جماعت احمد یہ میں روزوں کی طرف بالعموم توجہ کم ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ غیر احمدی علماء نے روزوں پر اتنا زیادہ ضرورت سے بڑھ کر اور اعتدال سے آگے نکل کر زور دیا ہے کہ اس کا رد عمل پایا جاتا ہے اور روزوں کے معاملہ میں چونکہ اتنی سختی نہیں کرنی اس لئے جتنی کرنی چاہئے اس سے بھی گر گئے ہیں ۔ اور یہ بہت ہی ایک تکلیف دہ شکل ہے کیونکہ در حقیقت روزہ تو عبادت کا معراج ہے ۔ روزہ سب عبادتوں میں افضل ہے۔ اس میں ساری عبادتیں سمٹ جاتی ہیں اور تمام عبادتیں اپنے عروج تک پہنچ کر روزہ کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ اس سے اوپر صرف ایک حج کا مقام ہے اور حج کے بعد روزہ کا مقام آتا ہے، باقی سب عبادتیں ان دونوں کے تابع آتی ہیں ۔ پس اس پہلو سے روزوں میں غفلت ایک بہت ہی بڑا نقصان ہے جو جماعت احمد یہ برداشت کر رہی ہے اگر یہ نقصان ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ میرا یہ اندازہ ہے کہ ہمارے خوش حال طبقہ میں یہ کمی زیادہ ہے اور پاکستان سے باہر کی جماعتوں میں یہ کمی زیادہ ہے۔ مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر نئی