خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد ۵ 361 خطبه جمعه ۱۶ مئی ۱۹۸۶ء تاکید نہیں فرمائی کہ معلوم کر لیا کہ تمہارے خوف سے تم سے جان بچانے کی خاطر تو کوئی اذان نہیں دے رہا۔ جھوٹے منہ سے اذان بلند کر کے وہ اپنی جان بخشی کی ایک ترکیب کر رہا ہو؟ ایک عام قانون تھا جو اسی طرح جاری رہا کہ جس گاؤں سے اذان کی آواز آئے گی ان کی جان اور مال مومن کے ذمہ ہے اور مومن پر فرض ہے کہ ان کی حفاظت کرے بجائے اس کے کہ ان میں دخل اندازی کر کے یا کسی طرح سے انہیں نقصان پہنچایا جائے ۔ مالک عروسه انس بن عروسه صلى الله یہ تو اسوہ تھا۔ اس سلسلہ میں آنحضرت علی کی ایک واضح ہدایت یہ ہے۔ حضرت ان سے روایت ہے اور بخاری کتاب الصلوٰۃ میں ہے۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی ضمانت ہے سو تم اللہ کی ضمانت میں خیانت مت کرو ( بخاری کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۳۷۸) یہ تعلیم تھی جو خدا تعالیٰ نے آپ کو واضح طور پر عطا فرمائی جس کے نتیجہ میں آپ کا یہ اسوہ جاری ہوا اور یہ عجیب بات ہے کہ اس دور میں پاکستان کے علماء کہلانے والوں نے اس کے بالکل برعکس صورت اختیار کر لی ہے۔ وہ طریق جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اسلام کے دشمنوں کا تھا اس کو تو اپنا لیا ہے اور وہ طریق جو محمد مصطفی ﷺ کا تھا اسے ہمارے حصہ میں رہنے دیا ہے۔ اس کے برعکس کفار کا یہ طریق تھا کہ جن دیہات سے اذانوں کی آوازیں آتی تھیں ان پر وہ صلى الله صلى الله حملہ کیا کرتے تھے اور جن دیہات سے اذانوں کی آوازیں نہیں آتی تھیں وہ ان کے دیہات شمار ہوتے تھے۔ اب مولویوں نے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ جس احمدی مسجد سے اذان کی آواز آئے اس پر پھر کر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ جس مسجد کا قبلہ محمد مصطفی ﷺ کا قبلہ ہو وہ مسجد ان کی آنکھوں کو نہیں بھائی اور وہ ہر طرح اسے کو مٹانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ تو اپنے ہاتھ سے سنت محمد مصطفی کو ہماری جھولی میں ڈال دیا وہ تو پہلے ہی ہماری تھی لیکن تسلیم کر لیا اور خود ان بدنصیبوں کی سنت پکڑ لی جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے دشمن تھے۔ صلى الله عروسة پس کوئٹہ میں بھی یہی مطالبات ہیں ۔ ان اسلام کا جامہ پہننے والوں کے بشدت مطالبات ہیں دو (۲) کہ اس مسجد کو ہم مسمار کر دیں گے اگر یہاں سے اذان کی آواز آئی اور اگر انہوں نے ہماری طرح نمازیں پڑھیں یہاں تو ہماری دل آزاری ہوتی ہے اور اگر ان کا قبلہ اس طرح رہا ، وہی قبلہ رہا