خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 346
خطبات طاہر جلد ۵ 346 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء نظر نہیں آتی اس لئے جماعت کے دوستوں کا خیال یہ ہے کہ یہ مذہبی دشمنی کے نتیجہ میں شہادت ہے جو عمل میں آئی ہے۔ ہے۔ کنیم مکرم نسیم احمد صاحب بھٹی 26 سال کی عمر میں ایک کار کے حادثے میں شہید ہوئے ہیں۔ ان کے والد مکرم محمد فخر الدین صاحب بھٹی وہ ہیں جو ایبٹ آباد میں 1974 ء میں شہید ہوئے تھے اور بہت ہی بہادری اور دلیری کے ساتھ بڑی شان کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی کی قربانی پیش کی تھی ۔ مکرمه بی بی ساحرہ صاحبہ اہلیہ محمود نیپال صاحب مرحوم ان کی عمر 87 سال تھی ، ماریشس کے ابتدائی احمد یوں میں سے تھیں۔ مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ یہ ہمارے نسیم سیفی صاحب وکیل التعلیم کی خوشدامنہ تھیں اور عبدالماجد طاہر صاحب کی بیگم کی دادی تھیں۔ عبد الماجد طاہر مبلغ سلسلہ ہیں جو آج کل یہاں مرکزی کارکنوں میں کام کر رہے ہیں اور آخری جنازہ ہے مکرمہ حمیدہ بیگم صاحبہ زوجہ مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب باجوہ میر پور خاص سندھ۔ نماز جمعہ کے معاً بعد یہ جنازے ہونگے ۔ میں بھول گیا تھا ذکر کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ صرف چند گنتی کے رہ گئے ہیں اور ان میں خاص طور پر حضرت سیدہ امت الحفیظ بیگم صاحبہ ال ان کی بابرکت زندگی کو بہت اللہ دوام بخشے ۔ جس حد تک بھی ممکن ہے انسانی زندگی کے لئے ان کا بابرکت سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ ان کی بیماری کی اطلاع ملی ہے ان کی انگلی پر کوئی تکلیف ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ایک انگلی مڑ گئی اور اس میں کافی تکلیف تھی غالباً آپریشن ہو چکا ہو گا یا ہونے والا ہے اس لئے ان کو خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں یا درکھیں ۔