خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 327
خطبات طاہر جلد ۵ 327 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء کے لگانا ہوا کرتا ہے۔ حسد کو اگر آپ ننگا کر کے ظاہر کر دیں گے تو یہ ایسا کیڑا ہے جو پھر بچتا نہیں ۔ یہ جتنا پردوں میں چھپا ہوا ہو، جتنا اندھیروں میں رہے اتنا زیادہ طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے اُتنا زیادہ اس کا حملہ خطرناک ہو جاتا ہے ، اس لئے اس کا تجزیہ کرتے رہیں اپنے نفس کو کھنگالتے رہیں ۔ اندرونی طور پر جہاں حسد کا جذبہ آپ کو کسی بات کے پیچھے محرک دکھائی دے وہیں اُس کا سر کچل دیں۔ اتنی بات کریں جو خالصہ نیکی کے نتیجے میں دل سے پیدا ہوتی ہے۔ اُن محرکات کو اختیار کریں جو تقوی ۔ نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور جہاں دوسرے کے اندر آپ تنقید میں حسد کا جذبہ دیکھیں اُس کو پیار اور محبت سے سمجھائیں کہ تمہاری بات حق تو ہو گی مگر حق طریق سے نہیں کر رہے۔ اس کی وجہ اور ہے۔ ہمیں تمہارے اندر بغض دکھائی دے رہا ہے۔ یہی برائیاں ہے جب دوسروں میں دیکھتے ہو تو خاموش ہو جاتے ہو پر واہ بھی نہیں کرتے۔ فلاں شخص میں چونکہ یہ برائی آئی ہے اس لئے تم نے شور مچانا شروع کر دیا ہے۔ اگر تقویٰ ہے اگر خدا کا خوف ہے تو عفو سے کام لو اور درگزر سے کام لو۔ محبت اور پیار سے اُس کو سمجھانے کی کوشش کرو اور پھر اگر ضروری ہے تو پھر خدا تعالیٰ نے جو طریقے مقرر کئے ہیں برائیوں کے اصلاح کے ان طریقوں کو باقاعدہ اختیار کرو اور اسی طرح اپنے معاشرے میں، اپنے گھروں میں خوب غور سے دیکھیں کہ آپ کے تعلقات کیوں خراب ہو رہے ہیں بسا اوقات حسد کے نتیجے میں تعلقات خراب ہو رہے ہوتے ہیں اور حسد تھر دلی پیدا کرتا ہے ۔ بہت ہی چھوٹا اور کمینہ بنا دیتا ہے انسان کو۔ اس لئے بڑے حوصلے والے انسان بنیں آپ نے ساری دنیا کو فضل عطا کرنے ہیں۔ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق عطا کرنے ہیں ۔ وہ دور بہت دور نہیں ہے وہ قریب آ رہا ہے۔ اُس کی تیاری کرنی پڑے گی آپ کو ۔ اپنے گھروں سے ان سب گندوں کو صاف کرنا پڑے گا تا کہ آپ کے مہمان صاف ستھرے پاکیزہ ماحول میں مہمان بن کر آئیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔