خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد ۵ 295 خطبہ جمعہ ۱۸ اپریل ۱۹۸۶ء تھیں ۔ اس کے باوجود کچھ دیکھا تھا انہوں نے جو تعجب میں مبتلا ہوئے ۔ اس لئے کہ آنحضرت علی اور آپ کے غلاموں کے قدم سچائی کے قدم تھے اور ان قدموں کا تعلق دنیا سے ہمیشہ رہا ہے۔ اہل دنیا صلى الله ان قدموں کی چاپ سے پہچانتے تھے، اُن کی چال ڈھال سے پہچانتے تھے، ان کے رخ سے پہچانتے تھے کہ یہ کیسے لوگ ہیں اور تبدیلیاں دیکھتے تو تعجب میں مبتلا ہوتے تھے تھے کہ یہ کیسے تعجب میں مبتلا ہوئے، کیسے انہوں نے اتنا حیرت انگیز آنحضرت ﷺ کو خراج تحسین پیش کیا بظاہر انکار ہے لیکن حیرت انگیز خراج تحسین پیش کیا کہ ساحر مبین ہے یہ تو حیرت انگیز کھلا کھلا جادوگر ہے کن لوگوں کو پکڑتا ہے اور کیا بنا کر رکھ دیتا ہے۔ تو وہ تبدیلیاں جو مومن کی ذات میں دنیا کے معاملات میں پیدا ہوتی ہیں وہی اُس کے نور کے پیمانے بن جاتی ہیں ۔ وہ اہل دنیا کو بھی بتا دیتی ہیں کہ یہ شخص صاحب نور ہے یا صاحب نور نہیں ہے ۔ اس پہلو سے جب میں جماعت کے مختلف حالات پر غور کرتا ہوں تو ہر جگہ کہیں نہ کہیں جہاں بھی کوئی خرابی دکھائی دیتی ہے ۔ قَدَمَ صِدْقٍ کی کمی نظر آنے لگتی ہے بالکل صاف اور کھلی ۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی شاہراہ پر چلتے ہوئے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں یہاں اس کا قدم فلاں جگہ پر صحیح پڑا اور یہاں غلط جگہ پڑا۔ یہاں کانٹوں میں چلا گیا ، یہاں پھولوں پر آگیا۔ صاف ستھر انظر آرہا ہوتا ہے کہ کیا واقعہ گزر رہا ہے اور اس کے پس منظر میں کسی نہ کسی جگہ نور کی کمی دکھائی دینے لگتی ہے اور روز مرہ کے معاملات ہیں یہ قدم ، کوئی فرضی قصے نہیں ہیں۔ آپس میں جب اختلاف پیدا ہوتے ہیں، جب آپس میں جھگڑے پیدا ہوتے ہیں تو پھر کیوں قدم غلط پڑتے ہیں؟ اس لئے کہ اُس کی نظر میں بگڑی ہوئی ہوتی ہیں ۔ ایک ہی واقعہ کو ایک نظر اور طرح دیکھ رہی ہے اور ایک نظر اور طرح دیکھ رہی ہے۔ ا حالانکہ نور اللہ کے ساتھ اگر دیکھا جاتا تو دونوں نگاہوں کو ایک ہی چیز نظر آنی چاہئے تھی۔ نور اللہ تو ایک حقیقت کو دو طرح سے دیکھ ہی نہیں سکتا ، ناممکن ہے۔ لیکن جتنے بھی اختلافات ہیں سب جگہ بھینگی آنکھیں آپ کو نظر آ جائیں گی ۔ معاملات کی آنکھیں بھینگی ہوں اور انسان یہ دعویٰ کرے کہ میں نور اللہ سے دیکھ رہا رہوں اس سے زیادہ تمسخر اور کیا ہو سکتا ہے اور آنکھیں بھینگی ہوں اور قدم درست پڑیں قدم تقویٰ اور صدق کے قدم ہوں یہ بھی ہو نہیں سکتا اس لئے معاملات سے قدم پہچانے جاتے ہیں اور قدموں سے آنکھوں کا معیار پتہ چلتا ہے۔ یہ محسوس ہو جاتا ہے کہ کس حد تک آنکھیں سیدھی نظر