خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد ۵ 282 خطبہ جمعہ ا ا ا پریل ۱۹۸۶ء میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے ( یعنی سچ کے میدان میں ۔ یا د رکھیں آپ کی فتح سچ کے میدان میں ہے ) اور جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں“ کتنا عظیم الشان کلام ہے جہاں ۔ جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں ۔ دور بین نظر نے بتایا کہ خدا کے فضل کے ساتھ آپ کے ساتھ بھی یہ وعدہ قائم ہے۔ اس میں عظیم الشان پیش گوئی ہے اور بہت ہی لطیف اور گہرا کلام ہے جہاں تک میں دور بین نظر سے دیکھتا ہوں ایک عظیم الشان خوش خبری ہے کہ مدتوں تک نسلاً بعد نسل جماعت احمد یہ سچائی پر قائم رہے گی اور یہ بھی بتا دیا گیا۔ کہ اگر تم دنیا کو اپنے قدموں کے نیچے دیکھنا چاہتے ہو تو دنیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی کے قدموں کے نیچے آئے گی۔ اس لئے تمہارے قدم بھی اگر اسی سچائی پر ہوں گے تو تب دنیا تمہارے قدموں کے نیچے آئے گی ورنہ نہیں آئے گی۔ تو ادنی خواہشات دنیا کی رکھنے والے جو دنیا کی فتوحات پر راضی ہونا چاہتے ہیں ان کو بھی باندھ کر ، ان کو بھی مقید کر کے سچائی کے قدموں پر لاکھڑا کیا گیا تمہیں بھی اگر فتوحات حاصل ہوتی ہیں تو اسی طرح فتوحات حاصل ہوتی ہیں کیونکہ آئندہ دنیا کا نقشہ اسی طرح کھینچا گیا ہے۔ آئندہ دنیا کا مقدر اسی طرح تعمیر ہوگا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کے تحت اقدام آئے ۔ فرمایا:: اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔ اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے ۔ ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں ۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں ۔ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا وو