خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 273

خطبات طاہر جلد ۵ 273 خطبہ جمعہ ا ار ا پریل ۱۹۸۶ء تفسير سورة نصر دلوں کی فتح حقیقی فتح ہے ( خطبه جمعه فرموده ا ا ا پریل ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ النصر کی تلاوت کی : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحُ بِحَمْدِرَ بِكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا پھر فرمایا : ( النصر : ٢٣) میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ جماعت کو اس اہم حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دین کی اصطلاح میں جس چیز کا نام فتح ہے اور جس چیز کو نصرت قرار دیا جاتا ہے وہ دنیا کی اصطلاح میں فتح اور نصرت کہلانے والی چیز سے بالکل مختلف چیز ہے ۔ ان دونوں کے مزاج مختلف ہیں ، ان کی نوعیت مختلف ہے ، ان کے رخ بالکل مختلف ہیں اور ایک کا کردار دوسرے کے کردار سے اتنا بعید ہے، اتنا فاصلہ رکھتا ہے جیسے بعد المشرقین ہو۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس سورۃ میں جو فتح و نصر کا نقشہ کھینچا ہے اس کی ظاہری الفاظ میں جو شکل ظاہر ہو رہی ہے اگر اس کی باطنی حقیقتوں میں ڈوب کر غور نہ بھی کریں تو ظاہری شکل وصورت ہی دنیا کی فتح ونصر کی ظاہری شکل وصورت سے بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ دنیا میں تو فتح نام ہے