خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 263

خطبات طاہر جلد ۵ 263 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء یہ کی راہ میں کی بناء پر کہ اس قوم کے لینے والوں نے کبھی دیانت کا مظاہر نہیں کیا۔ لیتے کسی اور نام پر ہیں اور خرچ کسی اور نام پر کرتے ہیں۔ ان کی شکلیں بتا رہی ہوتی ہیں کہ یہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگ برگر نہیں ہیں مانگنے والے ہیں ۔ پس یہ بیماری جب بہت بڑھ جاتی ہے پھر تو قوم کے لئے ایک کوڑھ کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ لیکن آغاز بھی اگر اس کا ہو تب بھی نقصان پہنچتا ہے اور بالعموم مختلف اتار چڑھاؤ جو دینے والوں کے آپ کو نظر آئیں گے ان کا تعلق خرچ کرنے والوں کے تقویٰ کے اتار چڑھاؤ سے ضرور ہوگا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ سلسلہ کے اموال دنیا کے جس گوشہ میں بھی وصول ہو رہے ہیں اور جس کونے میں بھی خرچ کئے جا رہے ہیں ، وہاں تقویٰ کے معیار کو دونوں طرف سے اونچا کیا جائے ۔ دینے والوں کے معیار کو ہی نہیں بلکہ خرچ کرنے والوں کے معیار کو بھی اونچا کیا جائے۔ جو بے احتیاطی کی صورتیں میرے سامنے آ رہی ہیں، مختلف وقتوں میں توجہ بھی دلائی جاتی ہے لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری ہے کہ خطبہ میں بھی بالعموم ان کی طرف متوجہ کیا جائے ۔ جہاں تک ہمارے مشنز کا تعلق ہے یا پاکستان میں جو ادارے کام کر رہے ہیں ان کا تعلق ہے۔ تین چار ایسے شعبے ہیں جہاں بے احتیاطی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں ۔ بجلی کا خرچ ہے، ٹیلیفون کا خرچ ہے، مہمان نوازی کا خرچ ہے اور سفر خرچ ۔ یہ وہ چار شعبے ہیں جہاں سے بے احتیاطی شروع ہوتی ہے اور جب یہ بے احتیاطی آگے بڑھ جائے تو پھر بد دیانتی شروع ہو جاتی ہے جو پھر ہر شعبہ پر اثر انداز ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے الا ماشاء اللہ اگر خدا کسی کی پردہ پوشی نہ فرمائے تو میں کہہ نہیں سکتا مگر بظاہر بد دیانتی کی کوئی مثالیں میرے سامنے نہیں آئیں ۔ بہت ہی شاذ کے طور پر بعض جماعت میں واقعات ہوتے ہیں بدیانتی کے مگر وہ ضروری نہیں کہ کارکنان ہی میں ہوں ، چندہ وصول کرنے والوں میں بھی ہوتے ہیں۔ وہ اتنا تھوڑا ہے کہ وہ ناممکن ہے عملا کہ کسی قوم کے معیار کو اتنا بلند کر دیا جائے کہ ایک فرد بشر بھی کوئی کمزوری نہ دکھائے ۔ کوشش تو ہونی چاہئے مگر بہر حال ایک آئیڈیل ایسا ہے جسے انسان کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتا ۔ جہاں تک عام معیار کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے واضح بد دیانتی موجود نہیں ہے لیکن بے احتیاطی کی بد دیانتی ضرور موجود ہے اور وقت ہے کہ ہم اسے سختی کے ساتھ دبائیں۔ ایک آدمی جو انگلستان بیٹھا ہوا یا امریکہ میں بیٹھا ہوا اپنے خرچ پر اپنے گھر فون نہیں کر سکتا