خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 254
خطبات طاہر جلد ۵ 254 خطبه جمعه ۲۸ مارچ ۱۹۸۶ء دستور سے تعلق رکھنے والی کمزوریاں ہیں ان میں نہ کبھی جماعت نے تجسس کیا ہے نہ جماعت کو یہ توفیق ہے کہ تجسس کر سکے اور اس کے پورے تقاضے پورے کرنے کے بعد فیصلہ دے کہ یہ مال حرام ہو گیا اور یہ مال حلال ہو گیا۔ بہر حال وہ زبانیں کھلنے لگیں اور اعتراض ہونے لگے جو صرف ان افراد تک نہ اور اعتراس ہو رہے بلکہ جماعت کے نظام تک پہنچے اور اس قسم کی باتیں شروع ہوگئیں کہ جور و پیہ زیادہ دے دے اس کی عزت ہے اور جو روپیہ نہیں دیتا اس کی عزت نہیں ۔ حالانکہ ایسی باتیں کرنے والے خودان سب برائیوں میں مبتلا تھے۔ اگر وہ برائیاں اس شخص میں موجود تھیں ۔ ! موجود تھیں ۔ بعینہ ان کے وہی دستور تھے کمانے کے۔ کوئی فرق نہیں تھا اور کچھ نہ کچھ چندے وہ بھی دیتے تھے۔ پس اگر زیادہ مالی قربانی مال کمانے کے طریق میں کوتاہیوں کے نتیجہ میں حرام ہوگئی تو تھوڑی کس طرح حلال ہوگی ۔ تو بجائے اس کے کہ رشک کا مقابلہ کرتے ،حسد سے مقابلہ شروع کر دیتے اور کثرت کے ساتھ بعض خاص گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جو تاجر پیشہ تھے ان کے دین کو بھی شدید نقصان پہنچا اور چندوں کے عمومی معیار کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچا اور اس کی سزا بھی ان کو ملی ان کی اولادیں ضائع ہونی شروع ہوئیں کیونکہ جو نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ نفس کے حسد کی وجہ سے تنقید کرتا ہے، وہ خود اپنا نقصان کر رہا ہوتا ہے۔ جس پہ تنقید کی جاتی ہے اس میں کمزوریاں بھی ہوں تو خدا تعالیٰ اس سے درگزر کا معاملہ کر لیتا ہے لیکن نفس کی خاطر تنقید کرنے والے کو ہم نے اکثر بچتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ جو نفس کی اندرونی خرابیوں کی وجہ سے یا رعونت کی وجہ سے تنقید کرتا ہے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ان کی اولا د ضائع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہ نقصان بھی پہنچا۔ بہر حال اب صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان کی جماعتی ضروریات تو بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں اور ہندوستان کی جماعتوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تعداد کے لحاظ سے بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اموال کے لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر رنگ میں برکت کا سلوک ہوا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان کی جماعت اپنے پاؤں پر نہیں کھڑی ۔ یہ سارے جو تاریخی پس منظر میں نے بیان کئے ہیں ان کے بداثرات ایسے پھیلے ہیں اور اب تک ان کا نقصان پہنچ رہا ہے جماعت کو ۔ وہ ساری ضرورتیں جو میں جانتا ہوں کہ جماعت ہندوستان خود پوری کر سکتی ہے وہ دیکھتے ہوئے بھی نہیں کر رہی ۔ چندہ عام کا معیار گر گیا ، وصیت کا معیار گر گیا ، طوعی چندوں کا معیار گر گیا۔ تبلیغ کے