خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد ۵ 237 خطبه جمعه ۲۱ مارچ ۱۹۸۶ء ذوقی اور بے لطفی میں بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ سب وساوس اور اوہام دور ہو جاتے ہیں ۔ شیطان کو شکست ملتی اور مومن کامیاب ہو جاتا ہے ۔ غرض متقی کا یہ زمانہ سستی کا زمانہ نہیں ہوتا بلکہ میدان میں کھڑے رہنے کا زمانہ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ ۷ ارفروری ۱۹۰۱ء صفحہ (۲) ہوتا ہے۔ وساوس کا پوری مردانگی سے مقابلہ کرے پھر آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنتُه لِلْحَرْبِ ۔ جو شخص میرے ولی کا مقابلہ کرتا ہے وہ میرے ساتھ مقابلہ کرتا ہے“ یہ حدیث قدسی ہے ) ” اب دیکھ لو کہ متقی کی شان کس قدر بلند ہے اور اس کا پایہ کس قدر عالی ہے جس کا قرب خدا کی جناب میں ایسا ہے کہ اس کا ستایا جانا خدا کا ستایا جانا ہے۔ تو خدا اس کا کس قدر معاون اور مددگار ہوگا۔ لوگ بہت ۔ بہت سے مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں جن سے متقی بچائے جاتے ہیں بلکہ ان کے پاس جو آ جاتا ہے وہ بھی بچایا جاتا ہے۔ مصائب کی کوئی حد نہیں ۔ انسان کا اپنا اندر اس قدر مصائب سے بھرا ہوا ہے کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ۔ امراض کو ہی دیکھ لیا جاوے کہ ہزار ہا مصائب کے پیدا کرنے کے لئے کافی ہیں لیکن جو تقویٰ کے قلعہ میں ہوتا ہے وہ ان سے محفوظ ہے اور جو اس سے باہر ہے وہ ایسے جنگل میں ہے جو درندہ جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔ ( ملفوظات جلد اول صفحه : ۱۰) پس اس دور میں جو سب سے بڑا مال غنیمت آپ حاصل کر سکتے ہیں، سب سے بڑی فتح جو حاصل کر سکتے ہیں، وہ مال غنیمت تقوی کا مال غنیمت ہے اور وہ فتح اپنے دل کی اور اپنے نفس کی فتح ہے اور یہی وہ اندرونی فتح ہے جو بیرونی فتح پر منتج ہوا کرتی ہے یعنی یہی وہ اندرونی غلبہ ہے جو بیرونی غلبوں ۔ میں تبدیل ہوا کرتا ہے۔ پس وہ جو بظاہر سچے دل سے اپنے بھائیوں کی تکلیف پر رو رہے ہیں اور دکھ محسوس کر رہے ہیں اگر وہ ان کی خاطر اپنے اندرونے میں پاک تبدیلی پیدا نہیں کرتے ، اگر وہ انہی کی