خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد ۵ 232 خطبه جمعه ۲۱ مارچ ۱۹۸۶ء پیٹھ پیچھے باتیں نہ کرو تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے۔ اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ ۔ ایک مسلمان دوسرے کا بھائی ہے ۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرے گا ، نہ اسے رسوا کرے گا، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑے گا ، نہ اسے حقیر جانے گا ۔ یہ تعلیم دینے کے بعد آپ نے فرمایا اپنا ہا تھ اپنے دل پر رکھ کر تین مرتبہ فرمایا تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔ (مسلم کتاب البر والصله حدیث نمبر : ۴۶۵۰ ) تقویٰ کے سرچشمہ سے یہ کلام نکل رہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تقویٰ کیا ہوتا ہے، تقویٰ محض خدا کے فرضی خوف کا نام نہیں ، تقویٰ محض نیکی کی اونچی اونچی باتیں کرنے کا نام نہیں ہے۔ تقویٰ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو دل میں چھپا رہتا ہے اور ظاہر نہیں ہوتا۔ تقویٰ ایسا ہے جو کہ نظر بھی آتا ہے غیروں کو، اپنوں کو بھی نظر آتا ہے اور غیروں کو بھی نظر آتا ہے۔ لیکن غیروں کو نظر آنے سے پہلے ، اپنوں کو تو دکھنا چاہئے ، اپنوں کو تو دکھائی دے۔ وہ تقویٰ جو تمہارے دلوں میں پوشیدہ ہے اور ظاہر نہیں ہورہا وہ تقوی تقویٰ نہیں ہے۔ فرمایا دیکھو میرے دل میں تقویٰ ہے، میرے دل میں تقویٰ ہے، میرے دل میں تقوی ہے اور اس کے نتیجہ میں یہی اعمال مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ پس تم جو تقویٰ کا دعویٰ کرنے والے لوگ ہو اگر ان اعمال سے خالی ہو تو پھر تقویٰ کی باتیں محض ریا کی باتیں، دھوکے کی باتیں ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر بولی نہ دو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے باتیں نہ کرو۔ کتنے ہیں ہم میں سے جو اس تعلیم پر کما حقہ عمل پیرا ہیں اور کتنے ہیں جو بار بار ٹھوکر کھا کر پھر انہی باتوں میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں اور کتنے ہیں جنہوں نے اس دور میں یہ بات سیکھی اس رنگ میں تقوی سیکھا کہ اپنی وہ اصلاح کریں جو حضرت محمد مصطفیٰ لا : تقویٰ کی تعریف کے نتیجہ میں ضروری قرار دیتے ہیں ۔ تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے۔ صلى الله صلى الله عروسه یہ چند باتیں جو آنحضرت علی نے بیان فرمائی ہیں اکثر جھگڑے جو احمدیوں کے میری نظر عروسه میں آتے ہیں ، جن سے قضاء کے دفتر بھرے پڑے ہیں ، جن کی شکایتیں امور عامہ تک یا امراء تک پہنچتی ہیں۔ ان کا تعلق انہی باتوں سے ہے۔ سودوں میں زیادتیاں حرص و ہوا کے نتیجے میں ، ایک دینے کی کوشش میں اور جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا بھائی بھائی دوسرے