خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد ۵ 229 خطبه جمعه ۲۱ مارچ ۱۹۸۶ء لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ہرگز ان کی کوئی شرارت، ان کی کوئی سکیم تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ فرمایا اللہ ہے جو ان کا گھیرا کئے ہوئے ہے۔ تم تو کمزور ہو ناتو ان ہو تم میں یہ طاقت کہاں ہے کہ اپنے دشمن کے مقابل پر اس کے شر سے بچ سکو کجا یہ کہ تم اس پر کسی اور طرح سے غالب آجاؤ تم میں اپنے دفاع کی بھی طاقت نہیں ۔ اس کے باجود خدا تعالی تمہیں ایه وعده دو ایسے ہتھیار عطا کرتا ہے کہ اگر تم ان کو پکڑ لو تو نہ صرف یہ کہ ان کے شر سے بچ جاؤ گے بلکہ خدار کرتا ہے کہ ان کی ہر تدبیر کو نا کام کر دے گا۔ ایک ذرہ بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی ۔ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ دلیل ہے اس بات کی کہ خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ ایسا کر سکے دلیل یہ ہے کہ اِنَّ اللهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ۔ دو طرح سے شر سے بچنے کی تدبیریں کی جاتی ہیں دنیا میں ۔ ایک یہ کہ بعض لوگ قلعہ بند ہو جاتے ہیں اور ان کی حفاظت کی دیواریں ان کو گھیرے میں لے لیتی ہیں ۔ عام طور پر کمزور جب بچتے ہیں تو اسی طرح بچتے ہیں اور ایک اس کے برعکس یہ تدبیر ہوتی ہے کہ شرارت کو گھیرے میں لے لیا جائے اور اس کی ناکہ بندی کر دی جائے ۔ چنانچہ آج کل کے زمانہ میں جو Quarantine کی اصطلاح نکلی ہے۔ یہی وہ طریق ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ غالب تو میں اور فہم والی قو میں اس نتیجہ پر پہنچی ہیں کہ بدی کو گھیرے میں لے لو ۔ اب جبکہ تمہیں غلبہ حاصل ہے تمہیں قوت حاصل ہے پیشتر اس کے بدی اپنی حد سے باہر نکل جائے اور تمہیں مغلوب کرنے کا احتمال پیدا ہو جائے ۔ اس سے پہلے پہلے بدی کو گھیرے میں لے لو۔ چنانچہ یہ تدبیر بہت ہی مؤثر ہے حفظ ما تقدم کے طور پر اس سے بہتر اور اس سے زیادہ یقینی کام کرنے والی اور کوئی تدبیر نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس دوسری تدبیر کا ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا ہے تمہیں وہ گھیرے میں کیا لیں گے ہم ان کو گھیرے میں لئے بیٹھے ہیں۔ ہم ان کے ہر عمل کو گھیرے میں لئے بیٹھے ہیں۔ ایک عمل بھی ہمارے احاطہ تقدیر سے باہر نہیں ہے ان کا۔ پھر کیسے ان کو اجازت ہوگی کہ وہ اچھل کر خدا کی تقدیر سے باہر آ کر تمہیں کوئی گزند پہنچا سکیں اور محیط کا ایک معنی ہے پارہ پارہ کر دینا ۔ ٹکڑے ٹکڑے کر دینا تو دوسرے معنی اس کے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر تد بیر کو صرف گھیرے میں ہی نہیں لئے ہوئے، ہر تدبیر کو پارہ پارہ کر دے گا اور ہر تدبیر کونا کام کر دے گا۔ تو جہاں تک اس ابتلاء کے دور میں تمناؤں کا تعلق ہے قرآن کریم آپ کی تمنائیں بھی