خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد ۵ 203 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء آپ بحیثیت جماعت اپنے اوپر رحم کرنے گا کرنے لگ جائیں ۔ بحیثیت جماعت آپ قابل رشک ہیں ۔ بحیثیت جماعت یہ جو دور جس میں سے ہم گزر رہے ہیں یہ جماعت کے لئے سعادتوں کا دور ہے ۔ بہت سی سعادتیں ایسی ہیں جو نصیب ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں روز اور بہت سی ایسی ہیں جو ہمارا انتظار کر رہی ہیں ۔ اس لئے جو کچھ بھی خدا کی تقدیر کر دکھائے ، ان بنیادی حقائق کو کبھی فراموش نہ کریں اور پہلی قوموں کی طرح نہ بنیں جنہوں نے تھوڑی تھوڑی آزمائشوں کے اوپر بھی ہمتیں ہارنی شروع کر دیں اور اس زمانے کے اولو العزم انبیاء کو یہ مسئلہ در پیش تھا کہ کس طرح ان کے دلوں کو سہارا دیں۔ خوش نصیب ہیں آپ کہ آپ کے اوپر خدا تعالیٰ نے جو سر براہ مقرر فرمایا ہے اُس کو یہ فکر نہیں ہے کہ آپ کے دلوں کو وہ کیسے سہارا دے۔ حیرت انگیز نمونہ ہے، محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کے نمونے کی یاد تازہ کرنے والا نمونہ ہے۔ وہ مجھے خط لکھ رہے ہیں یہ بتانے کے لئے کہ ہرگز فکر نہ کریں، ہمارے دل مضبوط ہیں خدا کے فضل سے ہم ہر قربانی کے لئے پہلے سے بڑھ کر تیار ہیں۔ لیکن یہ برکت سراسر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے قدموں کی برکت ہے۔ پہلے انبیاء کی قوموں نے بھی بڑے اچھے نمونے دکھائے مگر وہ نصیب نہ ہو سکا جو صلى الله حمد مصطفی علی کی غلامی سے نصیب ہو سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بھی آزمائی گئی اور ان علوم صلى الله عروسه کوبھی قسم قسم کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن جونمونہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی قوم نے دکھایا ویسا نمونہ ان کو نصیب نہیں ہوا۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُوْرِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ کہ موسی نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے صبر کے ذریعے سے استقامت مانگو یہ ساری زمین خدا ہی کی ہے جس کو چاہتا ہے وہ اس کا وارث بنا دیتا ہے اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ عاقبت متقیوں کے لئے ہی ہے انجام کار متقی ہی کامیاب ہوں گے ۔ قَالُوا أَوْ ذِيْنَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنا یہ بات سن کہ ان کا جواب یہ تھا کہ اے موسیٰ ! تیرے آنے سے پہلے بھی ہم دکھوں میں مبتلا کئے گئے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہ حال رہا ہمیں کیا فرق پڑا ہے۔ محمد